پیر, 12 اپریل 2021


گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے قانون نہ ہونا قانون بنانے والے کی غلطی ہے

 

ایمزٹی وی (اسلام آباد) سپریم کورٹ میں طیبہ تشدد کیس ازخود نوٹس کیس کی سماعت
کے دوران ڈی آئی جی اسلام آباد نے چالان عدالت میں پیش کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سرابرہی میں تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بچوں سے گھروں میں کام کرانا بڑا مسئلہ ہے، ایسے معامالات دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ گھریلو ملازمین کیلئے کیا قانون سازی ہوئی ؟ دیکھیں گے عام قانون کے تحت کیس نمٹائیں یا غیر معمولی قدم اٹھائیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزمہ کے شوہر ایک جوڈیشل افسر ہیں اور ملزموں کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا جائزہ لیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم کیس کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور مکمل چالان کل جمع کرائیں گے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خرم علی خان آئے یا نہیں ؟ جواب میں ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ خرم علی خان کو نوٹس جاری نہیں ہوا تھا۔جسٹس ثاقب نثار نے پولیس سے استفسار کیا کہ چالان میں کس کو نامزد کیا گیا ہے تو پولیس نے جواب دیا کہ ماہین ظفر اور خرم خان کو چالان میں ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال پوچھا کہ ناقابل ضمانت جرم کی دفعات ہوسکتی ہیں یا نہیں ؟انہوں نے کہا کہ گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے قانون نہ ہونے پر تشویش ہے اور یہ میری نہیں قانون بنانے والوں کی غلطی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر جوڈیشل افسران کو نوٹس جاری کرسکتے ہیں اور جوڈیشل افسران نے متاثرہ بچی کی حوالگی کا فیصلہ کیسے سنایا؟ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ 2 جوڈیشل افسران نے کیسے ضمانت دی ؟ ماہین ظفر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ قابل ضمانت کیس کی سماعت نہیں کرسکتی۔یادرہے فیصل آباد کی رہائشی کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کو اسلام کے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد صلح ہونے کی خبروں پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment