بدھ, 28 اکتوبر 2020


سابق سپہ سالار کی زمین الاٹمنٹ کے حوالے سے دفاعی ادارے کی وضاحت

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو زرعی زمین کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دفاعی ذرائع نے کہا ہے کہ اس میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ فوج کے موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت زمین مختص کرنے کا عمل خالصتا میرٹ پر ہوتا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق زمین زرعی مقاصد کے لئے مختص کی گئی ہے اور یہ تجارت یا کاروبار کے لئے نہیں ہے۔ پاک فوج کے تمام رینکس میں سینیارٹی، خدمات اور میرٹ کی بنیاد پر ریٹائرمنٹ کے قریب افراد کو زرعی زمین الاٹ کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ صوبے دار اور حوالدار کو بھی کم سے کم 12 سے 24 ایکڑ تک زرعی زمین الاٹ کی جاتی ہے۔مختص کی جانے والی زمین عام طور پر سرحد کے قریب ہوتی ہے۔ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو جو زمین الاٹ کی گئی ہے وہ لاہور میں سرحد سے پانچ کلومیٹر کے اندر ہے۔
جنرل راحیل سے پہلے کے فوجی سربراہان کو بھی دیگر سرحدی علاقوں میں اتنی ہی زمین الاٹ کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ یہی اصول دیگر سروسز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سینئرسول سرونٹس کو بھی ریٹائرمنٹ پر کھیتی باڑی کے مقاصد کے لئے زمینیں ملتی ہیں۔

 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment