جمعہ, 02 اکتوبر 2020


بھارتی مظالم کےخلاف مشترکہ اعلامیہ میں کیا کیا شامل؟؟

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد) وفاقی دارالحکومت میں ہونیوالی کشمیر کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے،اعلامیے کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے، بھارت سے دو طرفہ تعلقات کو مسئلہ کشمیر کی پیشرفت سے مشروط کیا جائے، حکومت پاکستان عالمی برادری سے موثر سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرائے۔
کشمیر کانفرنس کے شرکاءنے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری گرفتار حریت رہنماوں کو رہا کرانے میں کردار ادا کرے، مقبوضہ کشمیرمیں کالے قوانین ختم، پیلٹ گن کے استعمال پر پابندی لگائی جائے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں فوجی انخلا میں کردار ادا کرے، عالمی برادری،اقوام متحدہ کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کیلیے کردارادا کرے۔
جمعیت علماءاسلام (س) کے رہنماءمولاناسمیع الحق نے کہا ہے کہ یہ انتہا ہے کہ مسلم ممالک اب بھی خاموش ہیں، ٹرمپ کے اقدامات سے خوشی ہوئی کہ ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہوا، مودی ہمیشہ مسلمانوں کو اچھوت سمجھتا ہے ٹرمپ نے اچھوت بنا دیا۔
سینئیرصحافی حامد میر نے کہا ہے کہ مرکز ،آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت ہونے کے باوجود مسئلہ تا حال حل طلب ہے، مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر آنے والوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حکمران جماعت سے شائد کوئی اسلیے نہیں آیا کہ سوالات کے جوابات دینا پڑتے، جے یو آئی (ف)یوم کشمیر منائے مگر بڑھ کر کچھ کرنیکی ضرورت ہے۔
جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماءقیصر شریف نے بھی کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم کی انتہا کررکھی ہے،تمام طبقات کو ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے،5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھر پور انداز میں منایا جائے گا۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment