منگل, 24 نومبر 2020


ماضی کے مقابلے میں اب ہفتوں دھماکے نہیں ہوتے؟؟

 

ایمزٹی وی (اسلام آباد)اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ اہم ملکی امور پر مشاورت کے لئے میڈیا تنظیموں کے سربراہوں کو بلایا ہے، اجلاس میں دہشت گردی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوگی، ملکی سلامتی کے لئے دہشت گردوں کی تشہیر روکنے کی اشد ضرورت ہے، ہمیں دہشت گرد تنظیموں اور ان کےنمائندوں کو مکمل بلیک لسٹ کرناہے، میڈیا خوف اور تشویش کو عوام کے قریب نہ آنے دے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکے، وہ جذبہ لائیں جس سے دہشت گردی کی جنگ جیتی جاسکے، یکجہتی اور قومی عزم کے اظہار سےعوام مضبوط ہوں گے، میڈیا خوف کی فضا پیدا کرے گا تو قوم میں خوف پیدا ہوگا۔ وہ جذبہ لائیں جس سے دہشت گردی کی جنگ جیتی جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جون 2013 میں روزانہ 6 ، 7 دھماکے ہوتے تھے، ماضی کے مقابلے میں اب ہفتوں دھماکے نہیں ہوتے۔ پاکستان میں بہترسکیورٹی کا اعتراف پوری دنیا نے کیا، جو کچھ ہم نے اب تک کیا اس سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوئی، دہشت گردی کے کچھ واقعات ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے بھی ہوجاتے ہیں، دہشت گردی کےخلاف جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انفرادی کریڈٹ لینا مناسب نہیں۔ وفاقی وزارت داخلہ نے کئی صوبوں کو دہشت گردی کے واقعات کی پیشگی اطلاعات دیں لیکن کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ سہیون واقعے پر سندھ حکومت کے ترجمان وفاقی حکومت اور وزیر داخلہ پر تیر چلاتے رہے، وہ بطور وزیر داخلہ کسی پر تنقید نہیں کرتے لیکن ساڑھے 3 سال میں پہلی بار سیہون واقعے پر جواب دیا۔ وہ یہ بتائیں سیہون میں سیکیورٹی کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی تھی یا صوبائی حکومت کی، چیف سیکرٹری نےسانحہ سیہون کی بریفنگ میں دھماکے کے بعد کی صورتحال بتائی، سیہون میں مزار پر واک تھرو گیٹس کام نہیں کر رہے تھے، بریفنگ کے دوران جب انہوں نے پوچھا کہ دھماکے سے پہلے کیا صورت حال تھی ، ان کے سوال کا چیف سیکریٹری کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ آرمی چیف نے پوچھا کہ مزار پر عقیدت مندوں کی جانب سے کروڑوں روپے کے نذرانے نہیں ملتے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment