پیر, 26 اکتوبر 2020


غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری، کوئی نوٹس نہیں لیا گیا

 

ایمز ٹی وی (راولپنڈی) نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے بعد شہر بھر میں پلازوں کی قانونی اور غیر قانونی تعمیرات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے جبکہ دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود6 ماہ کا ماسٹر پلان تیار ہوا نہ ہی کوئی انتظامی حکمت عملی سامنے آئی۔ میونسپل بائی لاز کی کھلم کھلا خلاف ورزی سے شہر کا حسن بگڑنے لگا۔ سینکڑوں رہائشی و کمرشل عمارتوں کی دن رات غیرقانونی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف راولپنڈی میں غیرقانونی تعمیرات کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ سکستھ روڈ، صادق آباد، 8نمبر چونگی، بند کھنہ روڈ، ہولی فیملی روڈ، ڈگری کالج روڈ، کمرشل مارکیٹ، بی اور ای بلاک سٹلائٹ ٹائون، سکستھ روڈ، پل شاہ نذر، جامع مسجد روڈ، لیاقت روڈ، گنجمنڈی، کشمیری بازار، ڈھوک رتہ روڈ اور سرسید چوک سمیت دیگر علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات لگاتار جاری ہیں۔ ہولی فیملی روڈ پر صفا مسجد کے سامنے اور سکس روڈ پروجیکشن لائن پر بھی تعمیرات ہو رہی ہیں۔ ادہر معلوم ہوا ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے مشروط طور پر رہائشی و کمرشل نقشے جمع کرنا شروع کر دیئے ہیں۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے یکم جنوری سے نقشے جمع کرنا بند کر دیئے تھے‘ اب نئی شرط رکھی گئی ہے کہ نئے رولز بزنس آنے پر نئی ٹرم اینڈ کنڈیشن لاگو ہونگی۔ سکستھ روڈ پر گاڑیوں کے شوروم کیلئے الاٹ جگہ پر مزار کے ساتھ ایک پلازہ زیرتعمیر ہے۔ میونسپل کارپوریشن حکام کا کہنا ہے کہ پلازے کی تعمیر رکوا کر مالکان کو نقشہ سمیت طلب کر لیا ہے۔ سکستھ روڈ پر ایک زیرتعمیر پلازہ میں سیٹ بیک کیلئے جگہ نہیں چھوڑی گئی‘ سیدپور روڈ پر ہولی فیملی روڈ کے بالمقابل ایک پلازے کی آڑھی ترچھی دیواریں انتظامیہ کو نظر نہیں آ رہیں۔ نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ہدایت کی تھی کہ راولپنڈی شہر سے تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ شہر کی ترقی کیلئے چھ ماہ اور دو سالہ مدت کے ماسٹر پلان تیار کئے جائیں لیکن کوئی عملی کوشش نظر نہیں آئی۔

 

ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس عبادالرحمٰن لودھی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر سے انفورسمنٹ انسپکٹروں تک کو اپنی آمدن کے گوشوارے محکمہ اینٹی کرپشن کو جمع کرانے تھے لیکن لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی کے جسٹس مامون رشید شیخ اور جسٹس خالد ملک پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سنگل بنچ کے حکم کیخلاف حکم امتناعی جاری کر دیا تھا‘ جس سے انتظامی افسران کو تو ریلیف مل گیا لیکن شہر بھر میں میونسپل بائی لاز کی خلاف ورزی کا کھلم کھلا سلسلہ جاری ہے۔ بلڈنگ مافیا اور میونسپل کارپوریشن کے کرپٹ اہلکاروں کی ملی بھگت سے شہر میں رہائشی نقشوں پر کمرشل تعمیرات ہو رہی ہیں جبکہ خلاف نقشہ کمرشل تعمیرات بھی جاری ہیں۔ بلڈنگ مافیا سیٹ بیک اور کمپائونڈ کی جگہ تو چھوڑ دیتا ہے لیکن چھوڑی ہوئی سیٹ بیک کی جگہ پر شیڈ بڑھا کر شیڈ کنارے دیواریں تعمیر کر لی جاتی ہیں۔ اگر شیڈ کی2 فٹ تعمیر کی اجازت ہے تو شیڈ ساڑھے تین فٹ سے پانچ فٹ تک بڑھا لیا جاتا ہے‘ اسی طرح کمپائونڈ ایریا بھی کور کر لیا جاتا ہے جس کی فیس ادائیگی کیلئے بعد میں ملی بھگت سے میونسپل کارپوریشن میں درخواست جمع کرا دی جاتی ہے۔ بلڈنگ بائی لاز کے مطابق بیسمنٹ پلس2 یا3 منزل کا نقشہ پاس ہو تو ایک یا دو منزلیں فالتو بنا لی جاتی ہیں حالانکہ آرکیٹیکٹ رپورٹ، سوائل رپورٹ اور نقشہ کی منظوری کی شرائط کو مدنظر رکھا جائے تو بائی لاز کی خلاف ورزی ممکن ہی نہیں ہے۔ قبضہ مافیا نے رشوت خوری کیلئے خود ساختہ پروجیکشن لائن کنسٹرکشن طریقہ کار ایجاد کر لیا ہے جس کے باعث نقشہ کی منظوری، انجینئر رپورٹ، آرکیٹیکٹ رپورٹ اور سوائل ٹیسٹ رپورٹ، بیسمنٹ، سیٹ بیک اور کمپائونڈ ایریا کے بارے میں رولز اینڈ ریگولیشن کی پرواہ کئے بغیر تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔

 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment