بدھ, 13 نومبر 2019


اسپیکر قومی اسمبلی اپنی غیر جانبدار حیثیت کو برقرار نہیں رکھ سکے

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)سینیٹر سراج الحق سے پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے،امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی کل جماعتی کانفرنس میں مشاورت کے بعد شرکت کرنے نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کی آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کے لیے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ دونوں کی طرف سے تاخیر ہوئی ہے پیپلز پارٹی کی کل جماعتی کانفرنس میں مشاورت کے بعد شرکت کرنے نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے جبکہ سابق چیئرمین سینیٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر حسین بخاری نے الزام عائد کیا ہے کہ اس معاملے میں اسپیکر قومی اسمبلی اپنی غیر جانبدار حیثیت کو برقرار نہیں رکھ سکے اور وزیر اعظم و حکومت کے لیے سہولت کار بن گئے اسپیکر کاکام کسی بھی آئینی و قانونی ترمیم کا بل آنے کے بعد شروع ہوتا ہے ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماﺅں نےگزشتہ شام اسلام آباد میں ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے اعلیٰ سطح کے وفد نے فوجی عدالتوں میں توسیع پر وسیع اتفاق رائے سے متعلق کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کی وفد کی قیادت پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری کر رہے تھے وفد میں سینیٹر فرحت اللہ بابر، سینیٹر عبدالقیوم سومرواور سردار علی خان شامل تھے ملاقات میں جماعت کی طرف سے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ، نائب امیر میاں محمد اسلم اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر فاروق خان بھی موجود تھے ۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے کوئی عام بل نہیں آئے گا بلکہ آئین میں ترمیم ہونا ہے وسیع مشاورت کی ضرورت ہے جماعت اسلامی کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی ہے اور جماعت اسلامی مشاورت کے بعد اپنی پوزیشن سے آگاہ کرے گی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس معاملے پر اتفاق رائے حکمران جماعت بالخصوص وزیر اعظم محمد نواز شریف کا کام تھا کیونکہ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس وزیر اعظم نے ہی بلائی تھی انکی صدارت میں ہوئی تھی اور سیاسی جماعتوں نے ملکر نیشنل ایکشن پلان کے نکات کو حتمی شکل دی تھی 720دن گزر گئے ہیں حالات جوں کے توں ہیں اور ہم لاہور ، سیہون شریف اور چارسدہ میں سانحات اور حادثات دیکھ چکے ہیں قوم ایک بار پھر پریشانی کا شکار ہو گئی ہے حکومت کا موقف ہے کہ دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کی مزید ضرورت ہے اور حکومت کے مطابق فوجی عدالتوں کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں ہے حکومت نے حالات کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاملہ عددی اکثریت کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھتا قومی اتفاق رائے کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں اسپیکر کاکام ثالث کا ہوتا ہے اورجب حکومت اور اپوزیشن میں تناﺅ یا کسی مسئلے پر شدید اختلافات پیدا ہو جائیں تو اسپیکر کو اس وقت ثالثی کرنی پڑتی ہے انہوں نے کہا کہ اس اتفاق رائے کے حوالے سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو سامنے آنا چاہیے تھا یہ اسپیکر کا کام نہیں تھا جب بل متعارف ہو جاتا اور کوئی ڈیڈ لاک پیدا ہو جاتا تو ساپیکر موثر کردار ادا کر سکتے تھے اور اس ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے اسپیکر ہی آخری شخصیت ہوتی ہے مگر حکومت نے جو کام آخر میں کرنا تھا وہ پہلے مرحلے میں کر لیا۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment