بدھ, 21 اکتوبر 2020


جے آئی ٹی کا کامکمل

ایمزٹی وی (اسلام آباد)جسٹس اعجاز افضل خان کی سر براہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی خصوصی بینچ پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کررہا ہے۔ سماعت کے آغاز میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے رپورٹ پیش کی۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے جے آئی ٹی بنائی جس نے اپنا کام مکمل کرلیا، جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں تصویر لیک کرنے والے کا نام نہیں لکھا، ہمیں کمیشن کی تشکیل کی درخواست کی گئی جو ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ، ہم نے پوچھا تھا کہ تصویر لیک پر رپورٹ پبلک کریں یا نہیں، ہمارے خیال میں تصویر لیک معاملے پر کمیشن تشکیل دینے کی ضرور ت نہیں، اگر ہم ذمہ دار شخص کا نام ظاہر کرتے ہیں تو حکومت چاہے تو کمیشن تشکیل دے سکتی ہے۔
اٹارنی جنرل نے ایف آئی اے رپورٹ پڑھ کر سنائی، ایس ای سی پی ریکارڈ ٹیمپرنگ معاملے پر بحث کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے رپورٹ میں سنجیدہ الزامات ہیں، ظفر حجازی نے اپنے ماتحتوں کو ڈرایا اور دھمکایا، انہوں نے عدالت سے جھوٹ بولا، پہلے ٹمپرنگ سے انکار کیا اور پھر کہا میرا تعلق نہیں، وہ بیان دینے والوں کو بھی دھمکاتے رہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ظفرحجازی نے ماتحت افسران کو گلگت اور جیل بھیجنے تک کی دھمکیاں دی، ان کے خلاف آج ہی مقدمہ درج ہونا چاہئے، اب دیکھنا ہے کہ ٹمپرنگ کس کے کہنے پر ہوئی۔
سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا تھا جس کی روشنی میں 6 اداروں کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی 7 مئی کو تشکیل دی گئی تھی۔ ایف آئی اے کے ڈی جی واجد ضیا کی سربراہی میں جے آئی ٹی کے دیگر ارکان میں اسٹیٹ بینک سے عامر عزیز ، ایس ای سی پی کے نمائندے بلال رسول ، نیب سے عرفان نعیم منگی ، آئی ایس آئی سے بریگیڈیئر محمد نعمان سعید جبکہ ایم آئی سے بریگیڈیئر کامران خورشید شامل تھے۔
واضح رہے کہ جے آئی ٹی نے 62 دن تک تحقیقات کی جس کے دوران وزیر اعظم نواز شریف، ان کے تینوں بچے، داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے علاوہ ایس ای سی پی ، نیب ، ایف بی آر اور نیشنل بینک کے سربراہان بھی پیش ہوئے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment