اتوار, 20 ستمبر 2020


تحریک انصاف نے قومی احتساب کمیٹی کے قیام کی مخالفت کردی

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)پاکستان تحریک انصاف نے نئے مجوزہ قومی احتساب کمیشن ایکٹ 2017کا جائزہ لینے والی پارلیمانی کمیٹی کے 13ویں اجلاس میں قومی احتساب کمیشن کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے سے موجود قانون کوبہترکیوں نہیں کیاجاتا ۔
گزشتہ روز وفاقی وزیرقانون زاہدحامد کی صدارت میں پارلیمانی کمیٹی کامختصراجلاس ہوا،اجلاس کے بعدوزیرقانون نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ تحریک انصاف نے کمیٹی کے 12اجلاسوں کے بعد کہا ہے کہ انھیں نئے قانون پراعتراض ہے، اس ضمن میں وہ اپنی سفارشات تحریری طور پردیں گے۔ پی ٹی آئی ممبران نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ مجوزہ قانون میں جو تبدیلیاں اب تک ہوئی ہیں ان میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
وزیر قانون نے مزید کہاکہ ججز، جرنیلوں سمیت سب کے احتساب کے معاملے میں تحفظات موجود ہیں۔ ابھی حکومت نے بھی اس تجویز پر حتمی فیصلہ نہیں کیااوراحتساب قانون کے اطلاق کے حوالے سے تمام پارٹیوں نے تاحال جواب نہیں دیا اور دیگرسیاسی جماعتوں نے احتساب قانون پر مزید مشاورت کا وقت مانگا ہے۔
دریں اثنا اجلاس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاریں نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے نئے احتساب کمیشن کے قانون کے مسودے کو مسترد کرتے ہیں۔ شیریں مزاری نے گزشتہ روز پارلیمانی کمیٹی کوپارٹی کے موقف سے آگاہ کرنے کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 10 سال تک احتساب عدالت میں کیس چلنے کے بعد معافی دے دینا قبول نہیں ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment