ھفتہ, 24 اگست 2019


اسلام آباد آپریشن، " میں نہ مانوں ہار" کی جنگ چھڑ گئی

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کی آخری ڈیڈلائن بھی ختم ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے آپریشن شروع کردیا جس کے نتیجے میں مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور علاقہ میدان جنگ بن گیا۔
آپریشن میں پولیس، رینجرز اور ایف سی حصہ لے رہی ہیں، ایس ایس پی آپریشنز کارروائی کی قیادت جبکہ چیف کمشنر اور آئی جی پولیس مانیٹرنگ کررہے ہیں۔ سیکورٹی فورسز مظاہرین کی بڑی تعداد کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں اور فیض آباد کا وسیع علاقہ کلیئر کرایا جاچکا ہے تاہم احتجاج کے لیے بنایا گیا مرکزی اسٹیج بدستور قائم ہے اور وہاں پر مظاہرین اور ان کی قیادت موجود ہے جن کا سیکورٹی اہلکاروں نے محاصرہ کیا ہوا ہے۔
دھرنے کے اسٹیج پر مرکزی رہنما خادم حسین رضوی اور افضل قادری موجود ہیں اور پولیس کو مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے باعث شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ جب کہ گرد و نواح کے علاقوں اور گلیوں میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جس کے نتیجے میں جڑواں شہروں میں صورت حال شدید کشیدہ ہے۔
آپریشن کا سن کر راولپنڈی سے مظاہرین کی بڑی ریلی فیض آباد کے لئے روانہ ہوئی تاہم پولیس نے ڈنڈا بردار مظاہرین کو شمس آباد میں روک لیا اور ان پر شیلنگ کی۔ مظاہرین نے سیکیورٹی کے لئے لگائے گئے بیریئر توڑ دئیے اور پولیس پر پتھراؤ کی جارہا ہے جب کہ مری روڈ کو بھی مکمل طور پر بلاک کردیا گیا ہے۔ علاقے میں کشیدگی ہے اور مظاہرین و پولیس میں تصادم جاری ہے۔
جڑواں شہروں کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔ تمام تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہیں۔ ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہنگامہ حالت نافذ ہے۔ 14 زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور زخمیوں میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ ایک زخمی پولی کلینک اسپتال میں ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر مذہبی جماعت کے کارکنوں نے سڑکیں بلاک کردی ہیں۔
آج صبح سویرے سیکورٹی اہلکاروں نے فیض آباد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے پیش قدمی کی تو مظاہرین نے سامنے سے پتھراؤ شروع کردیا۔ تاہم پولیس کی پیش قدمی جاری رہی اور انہوں نے مظاہرین کے قریب پہنچ کر ان پر لاٹھی چارج شروع کردیا۔
اس دوران سیکورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے جن میں مظاہرین اور اہلکار دونوں شامل ہیں۔ پولیس کے لاٹھی چارج کے جواب میں مظاہرین نے بھی اہلکاروں پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔
پولیس نے بڑی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔ اب تک 50 سے زیادہ افراد کو حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں منتقل کیا جاچکا ہے۔ آپریشن کے آغاز میں پولیس کو فوری کامیابی حاصل ہوگئی اور انہوں نے 80 فیصد علاقے کو کلیئر کرالیا تاہم پھر مظاہرین کے قدم سنبھل گئے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں 20 روز سے مذہبی جماعتوں کا دھرنا جاری تھا اور مظاہرین الیکشن کے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ نے مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے کے لیے آج صبح 7 بجے تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جو ختم ہونے پر آپریشن کیا گیا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعدد بار دھرنا ختم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم احتجاج ختم نہیں کیا گیا۔ دھرنا ختم کرنے کے لیے حکومت نے اس سے پہلے دو بار ڈیڈلائن دی تھی تاہم دھرنا ختم نہیں کیا گیا جس پر انتظامیہ نے آج صبح 7 بجے تک کی تیسری اور آخری وارننگ دی گئی تھی جو گزرنے پر آپریشن شروع کردیا گیا۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment