منگل, 01 دسمبر 2020


سپریم کورٹ پاکستان کے حق میں قدم اٹھائے، پرویز مشرف

اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ فوج کو عدلیہ کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے، سپریم کورٹ پاکستان کے حق میں قدم اٹھاتے ہوئے موجودہ حکومت کو نکال دے کیوں کہ نواز شریف چلے جائیں تو پاکستان میں بہتری آجائے گی۔ نظیر کے قتل کا الزام بلاوجہ مجھ پر عائد کیا جارہا ہے، مرتضیٰ بھٹو کے قتل کی تفتیش آج تک کیوں نہیں کی گئی؟ بے نظیر بھٹو کو گاڑی سے نکلنے کو کس نے کہا؟ بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی فراہم کیوں نہیں کی گئی؟ متحدہ قومی موومنٹ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک دھبہ ہے اس سے جان چھڑانی پڑے گی، کراچی میں تمام مہاجروں کو اکٹھا ہونا چاہیے، بلوچ، پٹھان اور دیگر قومیت بھی ساتھ آئیں، مجلسِ وحدت مسلمین اور پاکستان عوامی تحریک مجھ سے مسلسل رابطے میں ہیں، بیرسٹر سیف کو میرے کہنے پر الطاف حسین نے سینیٹر بنایا، میں جب بھی واپس آیا فواد چوہدری بھی واپس آجائے گا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ ن لیگ نے پارلیمنٹ اور عدالت کے درمیان فساد شروع کرادیا ہے، سپریم کورٹ قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کر رہی ہے، فوج کو عدلیہ کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے، سپریم کورٹ پاکستان کے حق میں بہتری کے لیے قدم اٹھاتے ہوئے موجودہ حکومت کو نکال دے، میں چاہتا ہوں موجودہ حکومت گھر جائے اور نیشنل گورنمنٹ بنائی جائے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ معیشت کے اعتبار سے ہم ناکام ریاست بن سکتے ہیں، میرے زمانے کا ان کی حکومت سے موازنہ کرنا میں اپنی توہین سمجھتا ہوں، نواز شریف چلے جائیں تو پاکستان میں بہتری آ جائے گی، مریم نواز عام طور پر فضول بات کرتی ہیں ان کا کوئی تجربہ نہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ افتخار چوہدری کو آئین کے مطابق بر طرف کیا، افتخار چوہدری کو نظر بند نہیں کیا تھا وہ خود گھر نہیں چھوڑنا چاہتے تھے، میں ہر عدالت میں پیش ہوا، مجھے ہر عدالت میں گھسیٹا گیا، مجھے پاکستان واپس آنا چاہیے اور میں آؤں گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment