ھفتہ, 24 اگست 2019


اسحاق خاکوانی پہلے گواہ کے طور پر پیش

ایمز ٹی وی (اسلام آباد) جوڈیشل کمیشن میں اسحاق خاکوانی پہلے گواہ کے طور پر پیش کئے گئے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے کل پنجاب حکام کو طلب کرنے کا حکم دیدیا۔ جوڈیشل کمیشن میں سب سے پہلے ی معاملہ زیر غور تھا کہ سماعت میں گواہ کون ہوگا جس کے بعد مسلم لیگ نون کے وکیل شاہد حامد نے تحریک انصاف کا بیان  حلفی اور دستاویزات کا معاملہ اٹھایا ۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آج اور کل پیش ہونے والے گواہوں سے سیاسی جماعتیں ایک ہی پیشی میں سوال کر سکتی ہیں گواہوں کو دوبارہ پیش نہیں کیا جائے گا انکا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں صرف شہادتیں جمع کی جائینگی ۔ریمارکس میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو شخص دستاویزات فراہم کریگا اس کو گواہوں میں شامل نہیں کیا جائے گا ۔ جبکہ اس مرحلے میں وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ جو شخص دستاویزات کو ثابت کریگا وہ ہی گواہ کہلائے گا ،ایم کیو ایم کے وکیل حشمت کا کہنا تھا کہ انہوں نے گواہوں کی ایک فہرست دی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس بات کا فیصلہ الیکشن کمییشن کریگا کہ کون گواہ بنے گا اور کوئی نہیں بنے گا ۔ انتخابات دوہزار تیرہ میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کے جاری کردہ سوالنامے پر مسلم لیگ ن نے جواب جمع کرادیا اور پی ٹی آئی کے دھاندلی سے متعلق الزامات مسترد کردیئے۔ن لیگ کا کہنا تھا کہ منظم دھاندلی کے الزام پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے، الزام ثابت کرنے کیلئے پی ٹی آئی کو ضابطہ فوجداری کے تحت شواہد فراہم کرنا ہونگے، ہر حلقے میں اٹھاون ہزار ووٹوں کا فرق ہو تب جا کر دھاندلی کا الزام ثابت ہوگا۔ن لیگ نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ بشریٰ اعتزاز حلقہ این اے این ایک سو چوبیس اور عمران خان این اے ایک سو بائیس کے ریکارڈ کا معائنہ پہلے ہی کراچکے ہیں دوسری جانب پیپلز پارٹی نے بھی دھاندلی کمیشن میں تحریری جواب جمع کرادیا اور دھاندلی ثابت کرنے کی ذمہ داری کمیشن پر چھوڑ دی ہے، پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کے پینسٹھ حلقے کھولنے کی تجویز دی ہے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment