منگل, 27 اکتوبر 2020


سماعت کے دوران چیف جسٹس طیش میں آگئے

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)جسٹس جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نجی میڈیکل کالجز میں اضافی فیسوں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں اگر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام نہ ہوا تو کیا اورنج لائن سمیت تمام پراجیکٹ روک دوں گا ۔
میڈیا ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجز میں اضافی فیسوں کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ نجی میڈیکل کالجز کے مالکان اور چیف ایگزیکٹو افسران عدالت میں پیش ہوئے، ان کی جانب سے بیان حلفی اور اکاؤنٹ تفصیلات جمع کرائی گئیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تعلیم اورصحت پرسمجھوتہ نہیں، کوئی میڈیکل کالج اب رجسٹر نہیں ہوگا، آپ نے جو ابھی فیسیں وصول کی ہیں اگران میں پیسے زیادہ ہوئے تو واپس کرنے پڑیں گے، جو سرکاری ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ کلینک چلا رہے ہیں وہ بند کروادیں گے، مجھے اب ایسے لوگ اکٹھے کرنے ہیں جوڈنڈے والے ہوں گے، ہم بندے لے جاکر کلینک بیٹھ جائیں گے، میں یہ ٹھیک کرکے رہوں گا، غریب کا بچہ ڈاکٹربننا چاہتا ہے لیکن وسائل نہیں۔
دوسری جانب لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں ہی لاہور کے اسپتالوں کی حالت زارپرازخود نوٹس کی سماعت ہوئی، عدالت کے حکم پرلاہور کے سرکاری اسپتالوں کے ایم ایس حاضر ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اسپتالوں کی صورتحال اچھی نہیں ہے، اسپتالوں کی مکمل حالت زار پر حلفیہ بیان کے ساتھ عدالت میں رپورٹیں جمع کروائیں جب کہ تمام اسپتالوں کا آڈٹ کے کے رپورٹ جمع کروائی جائے، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ اسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات کی موجودگی کی رپورٹ بھی جمع کروائیں تاہم نوٹس کا مقصد ایکشن لینا نہیں بلکہ اسپتالوں کی حالت زار کو بہتر کرنا ہوگا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ سروسز اسپتال میں ایک وارڈ میں آپریشن کے دوران زخم پر ٹانکے لگانے والا آلہ نہیں تھا، ٹی وی چینلز پر اپنی مشہوری کے بجائے اسپتالوں کو ادویات فراہم کریں، پنجاب حکومت اپنی تشہیر پر کروڑ وں روپے اشتہارات کی مد میں لگا رہی ہے کیا صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اگر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام نہ ہوا تو اورنج لائن سمیت تمام پراجیکٹ بند کردوں گا۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment