جمعرات, 22 اگست 2019


بھارتی اشتعال انگیزی، شیرخوار بچی سمیت متعدد افرادنشانہ بن گئے

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)بھارتی فوج کی نکیال سیکٹر پر فائرنگ سے خاتون سمیت دو شہری شہید ہوگئے جب کہ دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
میڈیا زرائع کے مطابق دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو طلب کرکے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ سے خاتون سمیت 2 شہریوں کی شہادت پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایل او سی کے نکیال سیکٹر پر بھارت کی 18 چوکیوں سے بلااشتعال فائر نگ کی گئی جس کے نتیجے میں 33 سالہ دل محمد ولد جان محمد اور 25 سالہ نفیسہ زوجہ کامران شہید ہوگئیں جب کہ فائرنگ کے نتیجے میں 6 ماہ کی بچی اور 2 خواتین شدید زخمی ہوگئیں تھیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمیوں میں 26 سالہ صاحبہ زوجہ ماجد، چھ ماہ کی بچی نور دختر ماجد اور 38 سالہ نسیمہ زوجہ خادم حسین شامل ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کے مطابق بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جی پی سنگھ کو احتجاجی مراسلہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ شہری آبادی پر فائرنگ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت 2003 کے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے، بھارت سیز فائر کی خلاف ورزی کے پے درپے واقعات کی تحقیقات کرے اور اس کے نتائج سے آگاہ کرے، بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو کام کرنے کی اجازت دے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment