اتوار, 11 اپریل 2021


وہ کون لوگ ہیں جو مسلمان نہیں مگر مسلمان بن کر عہدوں پر فائز ہیں؟

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا اور وزیراعظم کو طلب کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی اور راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ جمع نہ کرانے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم سمیت سب کو طلب کرنے پر مجبور نہ کریں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے بتایا کہ کمیٹی کی رپورٹ ابھی تک فائنل نہیں ہوئی اس لیے 15 دن کی مہلت دی جائے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی نہ کھلیں، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ عدالت اسپیکر اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور باقی ممبران سے براہ راست ریکارڈ طلب کرے، آپ کو احساس نہیں کہ ختم نبوت ﷺ کا معاملہ ہے اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، گزشتہ آرڈر میں لکھوایا تھا کہ وزیر داخلہ کے دستخط نہ ہوں تو بھی رپورٹ پیش کی جائے، آئندہ سماعت پر رپورٹ نہ جمع کرائی تو وزیر اعظم اور وزرا کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کریں گے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور حکومتی رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے، حکومت اگر ایسا کرے گی تو باقی کیا کریں گے، وہ کون لوگ ہیں جو مسلمان نہیں مگر مسلمان بن کر عہدوں پر فائز ہیں، کیا وزرا پیش ہو کر احسان کرتے ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت 20 فروری تک ملتوی کردی۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment