جمعرات, 29 اکتوبر 2020


رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ جاری رہے گی

 

 


ایمزٹی وی(اسلام آباد)رمضان المبارک کے مہینے میں پورے ملک کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کرنا ناقابل عمل قرار دے دیا گیا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی سالانہ ترقیاتی اسکیموں اور بجٹ تیاری کو حتمی شکل دینے اور منظوری سے متعلقہ امورکا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں 18 نکاتی ایجنڈا زیرغور آیا۔کابینہ نے پاک چین ایف ٹی اے کے تحت خصوصی فورس کی تربیت کے معاہدے، انٹیلیکچوئل پراپرٹی ٹریبونل کے پریزائیڈنگ آفیسرکی تعیناتی، وفاقی کابینہ کی ان لینڈ ریونیو اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین کی تعیناتی اور لیگل پریکٹیشنر اور بار کونسل ایکٹ 1973ءمیں ترمیم کی منظوری دیدی۔
اجلاس نے ادویات کے لائسنس، رجسٹریشن، تشہیر اور جموں وکشمیر ایڈمنسٹریشن آف پراپرٹی رولز میں مجوزہ ترامیم کے بارے میں قانونی امور کے حوالہ سے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی توثیق کی۔
کابینہ نے کابینہ کمیٹی توانائی میں 2 اور 3 اپریل 2018 میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی جبکہ پاک نائجیریا فضائیہ میں خصوصی فورسز کی تربیت کے معاہدے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ محصولات کی وصولی اور اآئندہ ٹارگٹ کوحتمی شکل دی جائے۔

کابینہ نے پاک چین الیکٹرانک اوریجن ڈیٹا کے دوطرفہ تبادلے کے معاہدے، بورڈ آف انوسٹمنٹ کی تنظیم نو، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کو تحلیل کرنے کی منظوری دیدی۔ اس کے علاوہ کابینہ کی توانائی کمیٹی اور قانونی امور نمٹانے کی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق اور کامران بشارت مفتی کی بطور پریزائیڈنگ آفیسر انٹیلیکچوئل پراپرٹی ٹریبونل، غلام مصطفی میمن کی بطور ایڈمنسٹریشن جج خصوصی عدالت کراچی تعیناتی اور شاہد مسعود منظر کی بطور چیئرمین اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو تعیناتی کی منظوری دیدی گئی۔

اس کے علاوہ کابینہ نے پاکستان اور بیلا روس کے درمیان کسٹم ڈیٹا ایکسچینج معاہدے، پاکستان اور نیپال کےآڈیٹر جنرلز کے درمیان تعاون کے معاہدے اور پاک تاجک آڈیٹر جنرل میں پبلک سیکٹر آڈیٹنگ کیلئے تعاون کی یادداشت کی منظوری بھی دے دی۔

کابینہ نے صنعتوں اور پیداوار کی وزارت کے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو تحلیل کرنے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔دریں اثنا وفاقی کابینہ نے ملک کے مختلف حصوں میں جاری بجلی بحران کے پیش نظر رمضان المبارک کے دوران صرف سحر اور افطار کے اوقات کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کی باضابطہ منظوری دیدی ہے تاہم باقی اوقات میں معمول کے مطابق لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران پورے ملک کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا تاہم اس تجویز پر عملداآمد ممکن نہ ہونے کے باعث کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلے پر عملدرآمد کیا گیا کہ صرف سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی۔

 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment