جمعہ, 16 نومبر 2018


تحریک انصاف کے اسد قیصر قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)تحریک انصاف کے اسد قیصر قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں۔
سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نئے اسپیکر کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہوا۔ اسپیکر کے لئے تحریک انصاف اور اس کی حلیف جماعتوں کے مشترکہ امیدوار اسد قیصر کا مقابلہ اپوزیشن جماعتوں کے سید خورشید شاہ سے تھا۔
اسپیکر کے انتخاب کے لیے 2 پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے، ایک پولنگ بوتھ پر پیپلز پارٹی سےغلام مصطفیٰ شاہ اور تحریک انصاف کے عمران خٹک جب کہ دوسرے پولنگ بوتھ پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری اور تحریک انصاف کےعمر ایوب پولنگ ایجنٹ تھے۔ ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اراکین کو حروف تہجی کے مطابق باری باری ان کے نام سے بلایا گیا۔
رائے شماری کے اعلان کے بعد ایاز صادق نے نو منتخب اسپیکر سے حلف لیا۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے۔
پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی ہوئی جس کے مطابق اسد قیصر کامیاب قرار پائے۔ اسپیکر کے انتخاب کے لیے کل 330 ووٹ ڈالے گئے۔ اسد قیصر نے 176 جب کہ خورشید شاہ نے 146 ووٹ حاصل کئے۔ 8 ووٹ مسترد ہوئے۔
مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے احتجاج اور جوابی نعرے بازی کے باعث اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کردی، وقفے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں نے اظہار خیال کیا۔
ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو مسلم لیگ (ن) کے مرتضیٰ جاوید قاضی نے اسپیکر کو مبارکل باد دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو جعلی مینڈیٹ دیا گیا، امید ہے کہ آپ پارلیمان کی روایات کے مطابق پارلیمان کو چلائیں گے، آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پارلیمان کے تقدس کیلیے مثالی کردار ادا کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے ہے، ہمارے قائدین نے پارلیمنٹ کے تقدس کیلیے جانیں قربان کیں، ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ پاکستان، آئین اور قانون کے لیے کام کریں۔ پاکستان اور عوام کی بہتری کیلے کی جانے والی قانون سازی میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ رکاوٹوں کے باوجود پیپلزپارٹی نے جمہوریت کے لیے جدوجہد میں ہمت نہیں ہاری۔
پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے جمہوری اقدار کو آگے بڑھانے کے لئے فہم و فراست سے کام لیا، خورشید شاہ نے کہا وہ جمہوری ہے، انہوں نے فراخدلی سے نتیجےکو قبول کیا اور آئین اور قانون کی بات کی، ایوان کے تقدس کو پروان چڑھانے کیلیے ان رویوں کو اپنانا ہوگا، پاکستان کے معاشی مشکلات کے حل کیلئے ہمیں اپوزیشن کی رہنمائی چاہیے

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment