پیر, 16 دسمبر 2019


امریکا کی جانب سے واجب الادا اتحادی سپورٹ فنڈ کی بندش

 

ایمز ٹی وی (اسلام آباد) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا نے امداد نہیں بلکہ کولیشن سپورٹ فنڈ میں دی جانے والی رقم روکی ہے۔
امریکا کی جانب سے واجب الادا اتحادی سپورٹ فنڈ کی بندش پر وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم نہ امداد تھی نہ ہے، یہ اتحادی سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکا کی جانب سے ہماری واجب الادا رقم تھی، یہ رقم امریکا نے روکی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، امریکا نے سابق حکومت کے دور میں ہی یہ پیسہ معطل کر رکھا تھا اس لیے یہ تاثر دینا کہ یہ کیا ہوگیا درست عمل نہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ کوئی امداد نہیں یہ وہ پیسہ ہے جو ہم نے خرچ کیا یہ پیسہ امن و استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہوا، یہ پیسہ امریکا کو ہمیں واپس کرنا تھا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر کریں گے، 5 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ پاکستان تشریف لائیں گے ان کے سامنے اپنا نکتہ نظر پیش کریں گے، باہمی دلچسپی کے امور کو سامنے رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ تعلقات بڑھائیں گے اور امریکا کا موقف سن کر پاکستان کا موقف سامنے رکھیں گے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم مائیک پومپیو اور وزیر اعظم کی گفتگو کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہیں، ہم نے اپنے موقف سے پسپائی اختیار نہیں کی۔
جلال آباد میں قونصل خانہ بند کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہر بات کو سازش کے طور پر نہیں لینا چاہیے، اور اسے بند کرنے کا اقدام سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹھایا، ہم افغان حکام سے رابطے میں ہیں انہوں نے سیکیورٹی اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔
فرانسیسی صدر کے فون کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مصروفیت کے باعث فرانسیسی صدر کی فون کال ریسیو نہ کرسکے، دو طرفہ بات چیت کے بعد پیر کے روز دوبارہ ٹیلی فون کال پر اتفاق ہوا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کی بے پناہ قربانیاں ہیں، وفاقی کابینہ کو جی ایچ کیو میں بہت اچھے ماحول میں بریفنگ دی گئی اور یہ ملاقات ملکی مفاد میں ہے جس میں ہمیں داخلہ و خارجہ امور اور آئندہ کی حکمت عملی پر بریف کیا گیا۔
واضح رہے کہ امریکا نے پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لیے دی جانے والی 30 کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کردی ہے اور یہ فیصلہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کیا ہے۔

 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment