ھفتہ, 14 دسمبر 2019


اگر مجھے کارروائی کرنا ہوتی تو شرجیل میمن کو گرفتار کروا کے خود نمونے لیتا

 

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ پتہ نہیں کس نے اسپتال سے ملنے والے نمونوں کو بدل دیا۔

سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران  ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا کہ میرے کراچی میں سب جیل کے دورے پر بڑا شور مچا ہے، ایسا لگا جیسے شرجیل میمن سب جیل نہیں صدارتی سوٹ میں رہ رہے ہیں، معلوم نہیں کس نے نمونے لیے، کس نے ٹیسٹ کرائے، پتہ نہیں کس نے اسپتال سے ملنے والے نمونوں کو بدل دیا، اگر مجھے کارروائی کرنا ہوتی تو شرجیل میمن کو گرفتار کروا کے خود نمونے لیتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے چیف جسٹس نے کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج شرجیل میمن کے کمرے میں چھاپہ مارا تھا جہاں انہیں شراب کی بوتلیں ملی تھیں جس پر شرجیل میمن نے اس سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ شرجیل میمن کے خون کے نمونوں کی ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شرجیل میمن کے خون کے نمونوں میں الکحل نہیں ملی۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment