ھفتہ, 28 نومبر 2020


قادیانیوں کے بڑھتی ہوئی سرگرمیاں،مذہبی جماعت کا ایکشن لینےکا فیصلہ

 

اسلام آباد: سربراہ ایم ایم اے مولانا فضل الرحمٰن نے قادیانیوں کی بڑھتی سرگرمیوں، مدارس کے نصاب میں تبدیلی ودیگرحکومتی عزائم کے خلاف آل پارٹیزکانفرنس بلانے کااعلان کردیا۔

ایم ایم اے کا قومی مشاورتی کونسل پرتحفظات کااظہار،مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے کونیکٹا کے حوالے کرنے کے فیصلے کوبھی یکسرمستردکردیا۔ اس موقع پرلیاقت بلوچ، عبدالغفورحیدری، علامہ شاہ اویس نورانی، پیراعجاز ہاشمی،میاں محمداسلم ،ڈاکٹرعلی محمدابوتراب،مولاناعتیق الرحمن شاہ ودیگربھی موجود تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جب سے پی ٹی آئی حکومت آئی،ملک کو بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،حکومت کی کوئی سمت نہیں،اقتصادی مشاورتی کونسل میں قادیانی عاطف کوشامل کیا گیا۔ پھرعوامی ردعمل پراسے فارغ کردیاگیا، تشویشناک بات یہ ہے کہ عاطف کو نکالے جانے پرکونسل کے دومزیدلوگوں نے بھی الگ ہونے کا اعلان کردیا،اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کونسل کس ذہنیت کی حامل لوگوں کی تھی جویکجا ہوکرپاکستان کی معیشت کومغربی معیشت کے تابع کرنا چاہتی ہے اورملک میں سودی نظام کوفروغ دینا چاہتی ہے۔

سربراہ ایم ایم اے نے کہا کہ بین الاقوامی ایجنڈے کوپاکستان میں مسلط کرنا کیا ریاست مدینہ کا نظام ہے؟ یہ منہ اورریاست مدینہ کا نظام،صدرایم ایم اے نے کہا کہ موجودہ حکومت سی پیک پرنظرثانی کاعندیہ دیا،جس سے پاک چین اقتصادی دوستی پرحرف آسکتا ہے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment