جمعہ, 18 اکتوبر 2019


1985والی سیاست اب ختم ہوگئی،آصف زرداری اورنواز شریف اپناآخری الیکشن لڑچکے

اسلام آباد میں چیمبرآف کامرس میں خطاب کے دوران وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ 1985 والی سیاست اب ختم ہوگئی،  آصف زرداری اور نواز شریف اپنا آخری الیکشن لڑچکے، ان کی سیاست ختم ہوچکی۔

منی لانڈرنگ

فواد چوہدری نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور منی لانڈرنگ تھی،  منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات شروع کردیے ہیں، سندھ کی کہانیاں سامنے آرہی ہیں کہ پیسا کیسے باہرگیا۔

سی پیک کا محور زراعت

ملک میں زراعت کے شعبے کو جدت اور ترقی لائی جائے گی، اس کے لیے ہم سی پیک کا محور زراعت کو بنا رہے ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان زراعت سے متعلق مفاہمتی یادداشت پردستخط ہوئے ہیں۔

روپے کی قدر

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہم فائر فائٹنگ کررہے ہیں، گزشتہ حکومت نے ڈالر کو ایک سو روپے پر رکھنے کے لیے7 ارب ڈالر خرچ کیے،مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قیمت برقرار رکھنا تباہ کن پالیسی ہے۔

ٹیکس نیٹ میں اضافہ

فواد چوہدری نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دینے والوں پر بوجھ نہیں ڈال سکتے، ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے، اس بارریکارڈ ٹیکس ریٹرنزجمع ہوئے جومثبت پیش رفت ہے، طویل عرصے بعد دگنی تعداد میں ٹیکس وصولی ہوئی ہے۔

معیشت سب سے بڑا چیلنج

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں سب سے بڑا چیلنج معیشت کا ہے، ہم حکومت میں آئے تو ڈالر 128 روپے کا تھا، حکومت میں آئے تو پتا چلا 12ارب ڈالر نہ ہوئے تو ہم دیوالیہ ہوجائیں گے، ہماری پہلی ترجیح تھی کہ دیوالیہ ہونے کے خطرے سے کیسے نکلیں۔ اصل سفر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا ہے ، جب برآمدات زیادہ اور درآمدات میں کمی سے ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا، ہم درآمدات کی حوصلہ شکنی اور برآمدی صنعت کو سہولیات دے رہے ہیں، ہم ہر سال 2 ارب ڈالرز کے موبائل فون منگوا لیتے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ آئل ریفائنری کا معاہدہ ہواہے، ہم انفرا اسٹرکچر میں پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کریں گے۔

پاکستان کا امیج

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بیرون ممالک امیج بہتر ہو رہا ہے، امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر ہورہے ہیں، طالبان کےمذاکرات شروع کرانے پر امریکا نے شکریہ ادا کیا، فرانس نے اپنی سفری ایڈوائزری تبدیل کر دی، جرمنی سوچ رہا ہے، پاکستان میں بیرونی سیاحوں کا آنا بہت ضروری ہے، ہمیں پاکستان میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینا ہے، کرتار پور کو سکھوں کے لیے کھولنے کا ایک پہلو مذہبی سیاحت بھی ہے۔ 

 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment