پیر, 12 اپریل 2021


پاکستان میں 67 لاکھ افرادمنشیات کااستمعال کررہےہیں

اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر شفیق ترین کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کا اجلاس ہوا۔ جس میں ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس نے ارکان کو ملک میں منشیات کے استعمال اور اس کے سدباب کے لیے کی جانے والی کارروائیوں سے متعلق آگاہ کیا۔ ڈی جی این ایف اے نے بتایا کہ 17-2016 میں افغانستان میں افیون کی بمپر کاشت کی گئی، گزشتہ برس افغانستان میں 3 لاکھ 20 ہزار ہیکٹر جب کہ اس سال افغانستان میں 2 لاکھ 86 ہزار ہیکٹرز رقبے پر افیون کی کاشت کی گئی ہے۔

پاکستان کا شمار ایک ہزار ہیکٹرز ایریا پر افیون کاشت کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے سربراہ نے بتایا کہ افغان پناہ گزین منشیات کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے، بے روزگاری بھی منشیات فروشی کی بڑی وجہ ہے،ملک میں اس وقت 67 لاکھ افراد منشیات کا استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان میں کوکین کا استعمال بڑھتا جارہا ہے، آئس اور کوکین یورپ سے پاکستان آرہی ہے۔

سیکریٹری اینٹی نارکوٹکس کنٹرول نے کمیٹی کے سوال پر کہا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم 70 فیصد بچوں کے منشیات کا عادی ہونے کی بات کرتے ہوئے ایک این جی او کے سروے کا حوالہ دیا تھا، بہتر ہوتا کہ وزیرداخلہ ہم سے مشورہ کرلیتے، این جی اوز اپنے مفادات کے لیے ایسی تصویر پیش کرتی ہیں، قائداعظم یونیورسٹی نے 4 ہزار طلبا سے سروے کیا ہے،سروے میں پتا چلا صرف 2 فیصد طلبا منشیات کا شکار ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment