جمعرات, 15 اپریل 2021


پلوامہ حملہ، بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا

اسلام آباد: بھارت کی فراہم کردہ فہرست میں شامل54 زیر حراست افراد کو پلوامہ حملے سے تعلق ثابت نہیں ہوا،22 مقامات پر مبینہ تربیتی کیمپوں کا بھی کوئی نام و نشان نہ ملا۔ ترجمان دفتر خارجہ کہتے ہیں پاکستان اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہے، ابتدائی تحقیقات پر سفارتی برادری کو بریفنگ بھی دی۔
 
پلوامہ پر بھارتی ڈوزیئر کی تفصیلات جاری، بھارتی ڈوزیئر کے6 میں سے صرف2 حصے پلوامہ واقعے سے متعلق ہیں، باقی چار میں عام نوعیت کے الزامات کی تحقیقات میں ایک بھی بھارتی الزام سچ نہ نکلا۔ پاکستان نے واٹس ایپ سے مدد لینے کےلئیے امریکی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
 
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان 91 صفحات پر مشتمل بھارتی ڈوزیئر میں صرف پلوامہ واقعہ سے متعلق حصے پر فوکس کررہا ہے،تحقیقات کے دوران بھارت کی فراہم کردہ معلومات کے تمام پہلوئوں کو بغور دیکھا گیا، عادل ڈار کے مبینہ اعترافی ویڈیو بیان اور ویڈیو کو شیئر کرنے والے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام نمبرز کا جائزہ لیا گیا، پاکستان نے واٹس ایپ سے مدد لینے کیلئے امریکی حکومت کو بھی درخواست کردی۔
 
دفتر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ بھارت کی فراہم کردہ کالعدم جماعت کے 90 افراد اور 22مبینہ تربیتی کیمپس کی فہرست کا بھی جائزہ لیا گیا، تحقیقات میں ابھی تک ۵۴ زیرحراست افراد کا پلواما تعلق ثابت نہیں ہوا، بھارت کے نشان دہی والے ۲۲ مقامات پر کوئی تربیتی کیمپ نہیں ملا، پاکستان کسی مطالبے پر ان جگہوں کا دورہ بھی کراسکتا ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment