منگل, 20 اگست 2019


اشہباز شریف پھر بول پڑے ، نءے انتخبات کا مطالبہ کردیا



اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کردیا۔

علاوہ ازیں بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) سمیت تمام اپوزیشن نے پارلیمانی کمیٹی ’انتخابی دھاندلی کمیشن‘ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ دھاندلی والی کمیٹی کا 4 ماہ سے اجلاس ہی نہیں ہورہا۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی بھرپور حمایت کریں گے اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

پی اے سی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے احکامات تسلیم کرنے کے پابند ہیں اس لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سربراہی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا نواز شریف نے رانا تنویر کو چیئرمین پی اے سی نامزد کیا ہے۔

سابق صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور کی عیادت کے موقعے ان کا کہنا تھا کہ چارٹر آف اکنامک پر مریم نواز کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔

رہبر کمیٹی کے لئے نامزدگی

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے رہبرکمیٹی کے لیے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے نام تجویز کردیئے۔

اس حوالے سے ذرائع نےبتایا کہ اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا شہباز شریف کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں رہبر کمیٹی کے لیے تجویز کردہ ناموں کو مولانا فضل الرحمن کو بھجوا دیئےگئے۔

اجلاس میں قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری اور سپلمنٹری گرانٹس کے منظوری پر بھی بات چیت ہوئی۔

اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن کا فیصلہ تھا ’لاڈلے‘ کو ایکسپوز ہونے دے، سب نے دیکھ لیا معیشت کی تباہی ہوئی ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا معیشت کو لگی بیماری کا علاج صرف نئے انتخابات ہیں، ان ہاؤس تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ کی چوٹ ایک ماہ بعد عوام پر پڑے گی۔

کراچی پریس کلب کے صدر پر تشدد کی مذمت

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ آزادی صحافت کے لیے صحافیوں۔کے ساتھ کھڑے ہیں اور کراچی پریس کلب کے صدر اور سمیع ابراہیم پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے سینئر رہنما جاوید لطیف کو ہدایت دی کہ صحافیوں کی سیکیورٹی سے متعلق رپورٹ جلد ایوان میں لائیں۔

شہبا شریف نے کہا کہ یہ بات عیاں ہوگئی یہ تحریک انصاف پارٹی نہیں ’پٹائی پارٹی‘ ہے، ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں میں اختلافات تھے لیکن یہ صورتحال نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر جو سنسر شپ لگائی اس کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں تاہم حکومت کی طرف سے فسطائی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔

شہباز شریف نے صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

نواز شریف کو ذاتی معالج تک رسائی نہ دینے پر شدید مذمت

‎پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے سابق وزیر نواز شریف کو ذاتی معالج تک رسائی نہ دینے کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان یاد رکھیں نواز شریف صاحب کو خدانخواستہ کچھ ہوا تو آپ کا گریبان اور عوام کا ہاتھ ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’‎سلیکٹڈ‘ وزیراعظم کو سیاسی قیدی نواز شریف سے اتنا خوف ہے کہ اُن کے بنیادی حقوق سے انہیں محروم رکھا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو 10 ماہ میں 7ہزار ارب کے قرضے، گیس کی قیمت میں 200 فیصد اضافے کا جواب دینا پڑے گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment