ھفتہ, 25 جنوری 2020


رانا ثناءاللہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا

 
 
 
 
لاہور: سیشن کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار رانا ثنااللہ کو جیل میں گھر کا کھانا دینے کی درخواست مسترد کردی اور رانا ثنااللہ کو جیل سپرنٹنڈنٹ سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔
 
لاہور کی سیشن کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار رانا ثنااللہ کی جیل میں گھر کا کھانے نہ دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج لاہور قیصر نذیر بٹ نے رانا ثناءاللہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
 
عدالت نے سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ کو جیل میں گھر کا کھانا دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کوپہلے متعلقہ فورم سپرنٹنڈنٹ جیل سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔
 
یاد رہے 13 جولائی کو رانا ثنااللہ کی گھر کا کھانا نہ دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، رانا ثناءاللہ کے وکیل کا مؤقف تھا کہ رانا ثناءاللہ بیمار ہیں، ان کی صحت کے لیے گھر کا کھانا دینے کی اجازت دی جائے۔ جیل قوانین کے مطابق زیر ٹرائل ملزم کو گھر کا کھانا دیا جا سکتا ہے۔
 
جیل حکام نے رپورٹ جمع کرائی تھی کہ رانا ثناءاللہ کو ان کی طبعیت کے مطابق کھانا دیا جا رہا ہے۔ ان کا روزانہ کی بنیاد پر میڈیکل بھی کیا جا رہا ہے۔ ان کی طبیعیت بالکل ٹھیک ہے۔
 
واضح رہے انسداد منشیات فورس نے رانا ثنا اللہ کو اسلام آباد سےلاہورجاتےہوئےموٹر وے سے حراست میں لیا تھا ، راناثنااللہ کی گاڑی سے بھاری مقدار میں ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔
 
اینٹی نارکوٹکس فورس نے رانا ثنا اللہ کےخلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا ، ایف آئی آر میں کہا گیا رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے 21 کلو سے زائد منشیات برآمد ہوئی ، برآمد منشیات میں 15 کلو ہیروئن بھی شامل ، روکنے پر راناثنااللہ نے اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔
 
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا تھا رانا ثنا اللہ نےاختیارات کاناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے منشیات اسمگلنگ کی کوشش کی۔
 
بعد ازاں رانا ثنا کو ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے رانا ثنا منشیات کیس میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment