پیر, 09 دسمبر 2019


بھارت کو سفارتی شکست ہوئی ہے,شاہ محمود قریشی

 
 
 
 
وزیر اعظم کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلاس — فوٹو: وزیرخارجہ آفیشل
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل ہم نے ایک بڑا معرکہ سرکیا اور مسئلہ کشمیر کو اس فورم پراٹھایا جو اس کو حل کرنے کا ذمہ دار ہے جو کہ بھارت کی سفارتی شکست ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ دنیا کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت کی نیت پر شک ہے، سفارتی شکست کے بعد بھارت مِس ایڈونچر کر سکتا ہے، بھارت کے ارادوں سے واقف ہیں، قوم اور ادارے بھارتی عزائم سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
 
 
بھارت آزاد کشمیر پر قبضے کا خواب نہ دیکھے: ترجمان پاک فوج
 
مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام اور بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ جب دماغ میں خرابی ہو تو وہ کیا جاتا ہے جو 5 اگست کو بھارت نے کیا اور جب دماغ سٹھیا جائے تو وہ کہا جاتا ہے جو راج ناتھ سنگھ نے کہا۔
 
انہوں نے کہا کہ یہ ایک لمبی لڑائی ہے جسے کئی محاذوں پر لڑنا ہے جب کہ آج کی میٹنگ میں آئندہ آنے والے دنوں کی حکمت عملی پر بات ہوئی، پوری کمیٹی اس بات پر متفق ہے کہ آج کا ہندوستان نہرو کا ہندوستان نہیں بلکہ مودی کا ہندوستان ہے۔
 
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دفتر خارجہ میں کشمیر سیل بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے جب کہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں کشمیر ڈیسک بنائی جائے گی۔
 
تنازع کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور نے کہا کہ تنازع کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول سے دراندازی کے الزامات مسترد کرتے ہیں، مسلح افواج تیار ہیں اور بھارتی ایکشن کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
 
مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا پس منظر
بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا تھا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔
 
 
'سلامتی کونسل اجلاس نے اس بات کی نفی کردی کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے'
 
راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔
 
آرٹیکل 370 کیا ہے؟
بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔
 
آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔
 
بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔
 
بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔
 
پاکستان کا رد عمل
پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی اور اقوام متحدہ، سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر یہ معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
 
 
مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس اس کی قراردادوں کی توثیق تھا: وزیراعظم
 
پاکستان نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔
 
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی اقدم کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
 
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔
 
وزیر ریلوے شیخ رشید نے سمجھوتہ ایکسپریس اور تھر ایکسپریس ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تو وہیں اب لاہور سے دہلی جانے والی دوستی بس سروس اور لاہور سے امرتسر جانے والی امرتسر بس سروس بھی بند کردی ہے۔
 
چین کا بھارتی اقدام پر مؤقف
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چوینگ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پرکشیدگی اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے متعلق سوالات پر تحریری جواب میں کہا کہ چین کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر 'شدید تشویش' ہے۔
 
ترجمان کا کہنا تھا کہ چین نے سرحدی علاقے میں بھارتی مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور اس بارے میں ہمارا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔
 
 
بھارتی اپوزیشن نےمسئلہ کشمیرپرسلامتی کونسل کےاجلاس کومودی کی سفارتی ناکامی قراردیدیا
 
انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنا قانون یکطرفہ تبدیل کرکے ہماری خودمختاری کو نقصان پہنچایا، ایسے اقدامات ناقابل قبول اور کبھی قابل عمل نہیں ہوسکتے۔
 
ترجمان کے مطابق بھارت سرحدی معاملات پر بیان اور عمل میں ہوشمندی کا مظاہرہ کرے اور بھارت چین سے کیے گئے معاہدوں پر قائم رہے، بھارت ایسے کسی بھی عمل سے باز رہےجو سرحدی امور کو مزید مشکل بنادے۔
 
مقبوضہ جموں و کشمیر سلامتی کونسل کا اجلاس
پاکستان اور چین کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس 16 اگست کو ہوا جس میں 15 رکن ممالک کے مندوبین اجلاس میں شریک ہوئے۔
 
یو این ملٹری ایڈوائزر جنرل کارلوس لوئٹے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی جبکہ اقوام متحدہ کے قیام امن سپورٹ مشن کے معاون سیکریٹری جنرل آسکر فرنانڈس نے بھی شرکاء کو بریفنگ دی۔
 
 
جنوبی افریقا کا مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار
 
مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ایک گھنٹہ 10 منٹ جاری رہا۔
 
یو این ایجنسی کے جاری بیان کے مطابق کشمیر پر سلامتی کونسل میں براہ راست بات چیت ہوئی، بھارتی زیر انتظام مسلم اکثریتی کشمیر کا خصوصی درجہ تھا جو کہ بھارت نے 5 اگست کو وہ حیثیت ختم کردی۔
 
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کشمیر پر یو این کی پوزیشن سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ہے، مسئلہ کشمیر کا حتمی درجہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت طے ہونا ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment