جمعہ, 02 اکتوبر 2020


تاجر برادری اپنےمطالبےپرڈٹ گئے

 اسلام آباد: آل پاکستان انجمن تاجران اور ایف بی آرکے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے اور تاجر برادری نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال واپس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے کہاہے کہ شناختی کارڈ کی شرط ناممکن اور پیچیدہ ڈاکیومنٹیشن ہے، ایف بی آر کو آئی ایم ایف سے معاہدہ کرتے وقت سوچنا چاہیے تھا۔ 29 اور30 اکتوبر کو ہر حال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ آل پاکستان انجمن تاجران اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے ڈیڈ لاک بر قرار ہے۔

 اسلام آباد، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ ہم مذاکرات سے انکاری نہیں تاہم چیئرمین ایف بی آر کہتے ہیں کہ فکسڈ ٹیکس لارہے ہیں پھر 2گھنٹے بعد اپنا بیان بدل لیتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی ٹیم کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے تاجرنمائندوں سے بھی مذاکرات کرے۔
 

 آئی ایم ایف کو حکومت سے معاہدہ کرتے وقت پاکستان میں شرح خواندگی کا خیال رکھنا چاہیے۔ اجمل بلوچ نے کہاکہ سخت شرائط کے تحت معاہدے نے کاروبار کو تباہ کردیا ہے۔ یکم جولائی سے کاروبار کا پہیہ رک گیا ہے جس سے تاجر سخت پریشان ہیں۔ حکومت کو یہ بات سمجھ میں آجانا چاہیے کہ کاروبار نہیں ہوگا تو ٹیکس کہاں سے آئے گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment