بدھ, 21 اکتوبر 2020


فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ میں کسی درخواست کی سماعت نہیں کی جاسکتی ۔

ایمز ٹی وی (اسلام آباد) وفاقی حکومت نے پیر کے روز سپریم کورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس فوجی عدالتوں کو چیلنج کرنے کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار نہیں، کورٹس صرف مسلح افواج کی سول حکومت کی مدد جاری رکھنے تک کا کام کرسکتی ہیں۔

متعدد درخواست گزاروں کو جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے کلاز 2،3 اور 4 میں ترامیم کے بعد آئین میں سپریم کورٹ کے پاس سے یہ اختیار لے لیا گیا ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے مسلح افواج کو دیے گئے احکامات کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں17 رکنی فل کورٹ بنچ 18ویں ترمیم کے تحت ججوں کی تعیناتی اور 21ویں ترمیم کے تحت ملٹری کورٹس کے قیام کی درخواستیں سن رہا ہے۔

اٹارنی جنرل کے مطابق آئین کے آرٹیکل 199(3) کے تحت ہائی کورٹس ملٹری کورٹس میں جاری ٹرائلز کا جائزہ نہیں لے سکتیں، عدالتیں ان افراد پر احکامات جاری نہیں کرسکتیں جن کے ٹرائل پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت چل رہے ہیں یا جن کا تعلق مسلح افواج سے رہا ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment