ھفتہ, 31 اکتوبر 2020


ٹک ٹاک پرپابندی، پاکستان ترقیاتی دوڑ سے دور ہوجائے گا

اسلام آباد: شارٹ ویڈیو شیئرنگ موبائل ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی لگانے پر سینیٹ کمیٹی برائے قانون سازی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پر تنقید کی ہے۔ کمیٹی کاکہناہے کہ پاکستان کو عالمی ترقی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور تنہائی پسندانہ روش اپنانے کے بجائے اصلاحی اقدامات کرنا ہوں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر کودا بابر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پی ٹی اے کی جانب سے ٹک ٹاک پر لگائی جانے والی پابندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سینیٹر کودا بابر نے کہا کہ پی ٹی اے کے اس طرح کے نقطہ نظر سے پاکستان ترقیاتی دوڑ سے دور ہوجائے گا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر مواد ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کررہا تھا تو پورے پلیٹ فارم یا ایپلی کیشن پر پابندی لگانے کی بجائے اس مواد کو منظم کرنا ضروری تھا۔

تاہم، متعلقہ عہدیداروں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ پابندی کوئی ’مستقل‘ فیچر نہیں ہے کیونکہ ایپ انتظامیہ نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے اور جب وہ پاکستان کے قوانین کی پاسداری کریں گی تو اس کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

سینیٹرز نے ٹیلی کام ایکٹ 1996 کے سیکشن 57 اور ٹیلی کام پالیسی 2015 میں شامل مسابقتی قواعد کی حیثیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیلی کام پالیسی 2015 کے مطابق، مارکیٹ کی مضبوطی کو مستحکم کرنے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے لیے مسابقتی قواعد کے اطلاق کے ذریعے ٹیلی کام کو منظم کیا جائے گا۔

مسابقتی قوانین ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے تمام امور دیکھیں گے اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ٹیلی کام ایکٹ کے سیکشن 57 کے تحت اور مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت تیار کیا جائے گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment