ھفتہ, 27 فروری 2021


پاکستان میں 80ہزار"ایچ آئی وی سےمتاثرہ افراداپنی بیماری سے ناواقف ہیں، رپورٹ

ایمزٹی وی(اسلام آباد)پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام، اقوام متحدہ کے انفارمیشن سینٹر اور ایچ آئی وائرس و ایڈز کے خلاف کام کرنے والے اقوم متحدہ کے پروگرام ’یواین ایڈز کے زیرِ اہتمام ثقافتی مرکز لوک ورثہ میں تصویروں کی ایک منفرد نمائش جاری ہے، جس میں پہلی مرتبہ ایڈز اور ’ایچ آئی وی‘ وائرس سے متاثرہ افراد کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔ان تصویروں میں پاکستان میں ’ایچ آئی وی‘ سے متاثرہ اُن 25 افراد کی ہمت و حوصلے کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں جو وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود ایک بھرپور زندگی گزارنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔اس نمائش کا مقصد ’ایچ آئی وی‘سے جڑے معاشرتی تعصبات اور امتیاز کو ختم کرنا ہے۔نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام سے وابستہ تاج ولی خٹک نے میڈیاسے گفتگو میں کہا کہ اس نمائش کا مقصد ’ایچ آئی وی‘ سے متاثرہ افراد کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔واضح رہے کہ2010 میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ پاکستان میں عموماً ’ایچ آئی وی‘ یا ’ایڈز‘ سے متاثر افراد سے لوگ ملنا جلنا ترک کر دیتے ہیں اور انہیں مذہبی سرگرمیوں میں شریک ہونے سے بھی روکا جاتا ہے جبکہ ملازمتوں کے سلسلے میں بھی ان سے امتیاز برتا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازنے کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال تک ’ایچ آئی وی‘ سے متاثرہ افراد کی تعداد 94 ہزار تھی۔تاہم نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے عہدیداروں کے مطابق ’ایچ آئی وی‘ سے متاثرہ صرف 10 ہزار افراد کے بارے میں سرکاری سطح پر معلومات موجود ہیں جب کہ لگ بھگ 80 ہزار ایسے افراد ہیں، جو ممکنہ طور پر ایچ آئی وی ایڈز کا شکار ہونے کے باوجود اپنی بیماری سے متعلق لاعلم ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment