اتوار, 25 اکتوبر 2020


دہشت گردوں پر حملوں کے باوجود انکی صلاحیتیں کمزور نہ ہوسکیں

ایمزٹی وی(اسلام آباد)ملک کے معتبر تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فارکانفلکٹ اینڈسیکیورٹی اسٹڈیز نے اپنی حالیہ رپورٹ پیش کردی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فارکانفلکٹ اینڈسیکیورٹی اسٹڈیزکی ماہانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق آپریشن ضرب عضب،انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن اوردیگر کارروائیاں اپنے اہداف کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ پکس (PICSS) کی جائزہ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2015 میں ملک بھر میں دہشت گردی کے55 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اگست میں یہ تعداد 53تھی، ان حملوں میں ہلاکتوں میں معمولی اضافہ ہوا۔ ستمبر میں ان حملوں میں 125 افراد مارے گئے جبکہ اگست میں یہ تعداد 110 تھی۔ ستمبر میں ہونے والے 55 جنگجو حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے40 جوان، امن لشکروں کے 13 ارکان اور 38 عام شہری جاں بحق گئے جب کہ جوابی کارروائیوں کے دوران 34 دہشت گرد بھی مارے گئے۔ رپورٹ کےمطابق خیبر پختونخوا میں 2015 میں 55 جنگجوحملے اورسیکیورٹی فورسز کی 90 کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں جس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ فاٹا،سندھ اوربلوچستان میں کمی کارجحان دیکھنے میں آیاہے، اہم ترین حملہ پشاورمیں پاک فضائیہ کے رہائشی کیمپ پر کیا گیا جہاں ایئرفورس اور فوج کے جوانوں سمیت 29افراد شہید ہوئے جب کہ13 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیاجبکہ اعداد و شمارکے مطابق گزشتہ ماہ 12بم دھماکے ہوئے جن میں سے فاٹا میں ،5خیبر پختونخوا میں 5 اور پنجاب میں ایک ہوا۔ گزشتہ ماہ 19 فزیکل اسالٹ (ایسے حملے جن میں جنگجو ہتھیار بند ہوکر کسی ہدف پر حملے کرتے ہیں) ہوئے جن میں سے7 خیبر پختونخوا، فاٹا، پنجاب اور بلوچستان میں 3،3، سندھ میں 2اور گلگت بلتستان میں ایک حملہ کیاگیا۔ حکومت کو نیشنل ایکشن پلان کے تناظرمیں سلامتی کی صورتحال کو مزید بہتربنانے کے لیے دیگراقدام بھی کرنے ہوں گے، ستمبرمیں مزید 154 جنگجوسیکیورٹی فورسزنے ہلاک کردیے تاہم بھاری جانی ومالی نقصان اٹھانے اورمحفوظ ٹھکانوں سے محروم ہونے کے باوجود دہشت گردوں کی ہائی پروفائل حملہ کرنے کی صلاحیت مکمل طورپرختم نہیں ہوسکی۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment