منگل, 01 دسمبر 2020


سیکریٹری خارجہ نے دفاعی معاہدے پراپنا فیصلہ سنادیا

ایمزٹی وی(اسلام آباد)سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹیڈیز (سی آئی ایس ایس) اور انٹر نیشنل انسٹیٹوٹ فار اسٹریٹجک اسٹیڈیز (آئی آئی ایس ایس) لندن کی جانب سے" ڈیٹرنس اینڈ اسٹیبلیٹی ان ساؤتھ ایشیا" پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سیکریٹری خآرجہ چوہدری اعزاز کاکہنا تھا کہ عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ نہ ڈالے ان کا مزید کا کہنا تھا کہ پاکستان سے اس کے بنیادی سلامتی کے مفاد پر سمجھوتے کے لیے غیر حقیقی مطالبات کرنے کے بجائے بڑی طاقتوں کو اس کی کارروائیوں اور پالیسیوں کے متوقع نتائج پر غور کرنا چاہیے۔ذرائع کے مطابق سیکریٹری خارجہ کا مذکورہ بیان میڈیا میں آنے والی اُن خبروں کے پس منظر میں تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام پر مخصوص حد بندیوں کے عوض امریکا نے اسے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی پیش کش کی تھی۔بھارتی جارحیت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہندوستانی جارحیت کا سامنا ہے جس نے خطرناک، اشتعال انگیز اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن جیسی غیر ذمہ دارانہ حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے اور جس کی روایتی فوج پاکستان مخالف بنائی جارہی ہے۔اس حوالے سے انکا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان کی تمام اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان کی پالیسی خصوصیت کے ساتھ تحمل اور ذمہ دارانہ ہے۔ عالی برادری پر زور ڈالتے ہوئے سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو ہمارے جائز اور سنگین سیکیورٹی خدشات اور خطے کے لیے ایک غیر امتیازی جامع اور منصفانہ نقطہ نظر کو اپنانے کی پالیسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے لئے دوہرے میعار کی پالیسی خطے کے طویل امن اور سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment