منگل, 20 اگست 2019


ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں ہلاکت

ایمز ٹی وی فارن ڈیسک 

امریکی نیوی سیلز کے سابق اہلکار رابرٹ اونیل نے  ایک انٹرویو میں کہا کہ اسامہ بن لادن کی جس گولی سے ہلاکت ہوئی تھی وہ انھوں نے چلائی تھی۔

تاہم یہ رابرٹ کا یہ دعویٰ اسی ٹیم میں شامل میٹ بسونیٹ کی کتاب میں اس کارروائی کے حوالے سے دی گئی معلومات کے مترادف ہے۔

رابرٹ کے مطابق وہ اور ایک اور نیوی سیل، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کی تیسری منزل پر گئے اور دیکھا کہ اسامہ نے ایک کمرے کے دروازے سے باہر دیکھا۔

میٹ اور رابرٹ جو بھی کہیں اصل حقیقت کئی سال بعد امریکی حکومت کی جانب ہی سے سامنے آئے گی

رابرٹ کا کہنا ہے کہ تھوڑی ہی دیر بعد وہ کمرے میں داخل ہوئے اور انھوں نے اسامہ کے سر پر گولیاں ماریں۔

تاہم میٹ بسونیٹ نے اپنی کتاب ’نو ایزی ڈے‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ پوائنٹ مین (یعنی وہ سیل جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے اسامہ کو ہلاک کیا۔

ایبٹ آباد میں واقع اسامہ بن لادن کے مکان میں اندھیرے کی وجہ سے نیوی سیلز یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا اس بات کا تعین کرنا ممکن ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت کس کی گولی سے ہوئی

دوسری جانب میٹ اپنی کتاب میں خفیہ معلومات شائع کرنے کے حوالے سے زیر تفتیش ہیں۔

میٹ اور رابرٹ جو بھی کہیں اصل حقیقت کئی سال بعد امریکی حکومت کی جانب ہی سے سامنے آئے گی۔

امریکی محکمہ دفاع نے رابرٹ کی جانب سے کیے جانے والوں دعوؤں کے برے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم سینییر حکام نے پچھلے ہفتے نیوی سیلز کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ آپریشنل معلومات کے حوالے سے تبصرے کرنے سے اجتناب کریں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment