جمعہ, 21 فروری 2020


جہاد کے خواہش مند مشرق وسطیٰ میں تصادم کے لئے  بحری جہازوں کے ذریعے جاتے ہیں-

ایمز ٹی وی( فارن ڈیسک )

عالمی پولیس کی تنظیم انٹرپول کا کہنا ہے کہ کئی افراد عراق اور شام میں شدت پسند گروہوں کے شانہ بشانہ لڑنے کی غرض سے کروز شپس کے ذریعے جاتے ہیں-

تنظیم کا کہنا ہے کہ ہوائی جہازوں میں سفر کرنے کے لیے سخت چیکنگ کو کروز شپس کے لیے اختیار کیا جائے اس سے پہلے کہ یہ ایک بڑا مسئلہ بن جائے۔

مناکو میں بات کرتے ہوئے انٹرپول کے سربراہ رونلڈ نوبل نے کہا کہ ملکوں کو چاہیے کہ وہ ہوائی سفر کرنے والے تمام مسافروں کے بارے میں معلومات لیں اور اس کے ساتھ بحری جہازوں سے سفر کرنے والوں پر بھی سخت نظر رکھیں۔

انٹرپول کے انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر پیئر شینٹ ہیلیئر نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا شدت پسند اب ہوائی جہاز کی بجائے دیگر طریقوں سے تصادم والے علاقوں کی جانب سفر کر رہے ہیں۔

’ان کو معلوم ہے کہ ہوائی اڈوں پر نگرانی سخت ہوتی ہے اس لیے وہ کروز شپس میں سفر کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’کروز شپس کا مختلف بندر گاہوں پر رکنے کی وجہ سے یہ شدت پسند سکیورٹی ایجنسیوں کی نظر میں آئے بغیر شام اور عراق تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے شواہد بھی ہیں کہ جنگجو خاص طور پر یورپ سے آنے والے افراد جہاد میں حصہ لینے کے لیے ترکی کے ساحلی شہر ازمیت پہنچتے ہیں۔

انٹرپول کا کہنا ہے کہ ان شدت پسندوں کو روکنے کے لیے ممالک میں مزید معلومات کا تبادلہ ہونا اہم ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment