جمعرات, 22 اکتوبر 2020


ستاروں میں سے آدھے کے لگ بھگ ستارے کہکشاؤں کے اندر نہیں-

ایمز ٹی وی فارن ڈیسک کائنات کے پس منظر سے آنے والی روشنی پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے 

گرد و غبار اور کہکشاؤں سے آنے والی روشنیوں سے ہونے والی مداخلت کو نفی کر دینے کے بعد دیکھا گیا کہ باقی ماندہ روشنی کے اندر ہلکی ہلکی لہریں پائی جاتی ہیں۔

سائنس دانوں نے جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ روشنی ان تنہا ستاروں سے آ رہی ہے جو کہکشاؤں کے تصادموں کے دوران کہکشاؤں سے خارج ہو گئے تھے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے پروفیسر جیمی بوک اس تحقیق کے مصنفین میں سے ایک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کہکشاؤں کے باہر سے آنے والی روشنی ایک قسم کی ’کائناتی دمک‘ ہے۔

اس سے قبل روشنی کی پیمائشوں سے معلوم ہوا تھا کہ آسمان میں اس سے زیادہ روشنی ہے جس کی توجہ کہکشاؤں سے آنے والی روشنی سے کی جا سکتی ہے۔

اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں: یا تو یہ دور افتادہ، قدیم کہکشاؤں سے آنے والی روشنی ہے، یا پھر اس کا ماخذ کہکشاؤں سے باہر پائے جانے والے ’آوارہ‘ ستارے ہیں

 سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس خلا میں موجود روشنی کی نیلاہٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ان ستاروں سے آ رہی ہے جو کہکشاؤں سے باہر نکل گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان تصاویر میں موجود روشنی سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہکشاؤں سے باہر بھی تقریباً اتنے ہی ستارے پائے جاتے ہیں جتنے کہکشاؤں کے اندر ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment