پیر, 08 مارچ 2021
×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 46


میکسیکو کے مشتبہ گینگ کے اراکین نے 40 طلبا کو ہلاک کرنے کا اعتراف کرلیا-

ایمز ٹی وی (فارن ڈیسک ) میکسیکو کےاٹارنی جنرل جیسس میوریلو نے کہا کہ گینگ کے تین مبینہ اراکین نے دعویٰ کیا کہ بعض طلبا دم گھٹنے سے پہلے ہی سے ہلاک ہوئے تھے جبکہ دیگر کو انھوں نے گولی مار کر ہلاک کیا اور تمام لاشوں کو آگ لگا دی۔ گینگ کا کہنا تھا کہ یہ طلبا پولیس نے ان کے حوالے کیے تھے۔ یاد رہے کہ 26 ستمبر کو اگیوالا قصبے میں پولیس سے تصادم کے بعد 43 طلبا لاپتہ ہو گئے تھے ۔ لاپتہ ہونے والے طلبا کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انھیں ایک دریا کے کنارے سے چھ بوریوں میں انسانی لاشیں ملنے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ بوری بند لاشیں اس علاقے سے ملیں ہیں جہاں پر طلبا لاپتہ ہوئے تھے طلبا کو ڈھونڈنے کے لیے اس سے پہلے کیے گئے سرچ آپریشن میں طلبا کے لاپتہ ہونے والے قصبے اگیوالا کے نواح میں ایک اجتماعی قبر ملی تھی لیکن وہاں سے ملنے والی لاشوں کی ابتدائی ٹیسٹ رپورٹ سے معلوم ہوا کہ ان میں لاپتہ طلبا کی لاشیں نہیں تھیں۔ اٹارنی جنرل جیسس میوریلو نے خبردار کیا ہے کہ لاشوں کی جلی ہوئی باقیات کی شناخت کرنا مشکل ہے اور حکام اس وقت تک ان طلبا کو لاپتہ تصور کریں گے جب تک ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ان لاشوں کی شناخت نہیں ہو جاتی۔ انھوں نے کہا کہ ان لاشوں کو پیٹرول، ٹائر اور آگ والی لکھڑیوں کے ساتھ 14 گھنٹوں تک جلایا گیا اٹارنی جنرل کے مطابق مشتبہ افراد کو اندازہ نہیں کہ انھوں نے کتنے طلبا کو پکڑا تھا لیکن ان میں سے ایک نے بتایا کہ ان طلبا کی تعداد 40 سے زیادہ تھی- لاپتہ طلبا زیرِ تربیت اساتذہ تھے جو غیر منصفانہ بھرتیوں کے خلاف احتجاج کرنے اور اپنے کالج کے لیے چندہ کرنے کے لیے اگیوالا گئے تھے لیکن پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد غائب ہو گئے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment