جمعرات, 22 اگست 2019
×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 46


افغان صدر اشرف غنی کا دوروزہ دورۂ پاکستان بہت اہم سمجھا جا رہا ہے-

ایمز ٹی وی (فارن ڈیسک)

افغانستان کے نو منتخب محمد اشرف غنی پاکستان کے دو روزہ دورے پر جمعے کواسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا تھا کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کے واقعات، افغان سرحدی حدود میں پاکستانی طالبان قیادت کی موجودگی، اور پاکستان کے راستے نیٹو افواج کے انخلا سمیت بہت سے مسائل پر بات چیت کرے گی۔

 افغان صدر کو پرامن انتقالِ اقتدار کی پاکستان نے نہ صرف ہر سطح پر حمایت کی بلکہ صدر پاکستان ممنون حسین، اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر کابل بھی گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اس سال اکتوبر میں کابل کا دورہ کیا اور نواز شریف کی جانب سے نومنتخب افغان صدر کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی تھی۔

پاکستان کی سیاسی قیادت کے علاوہ فوجی قیادت نے بھی نئی افغان حکومت سے رابطہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں نئی قیادت آنے کے بعد پاکستان کے لیے خصوصی موقع ہے کہ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔

افغان صدرکے دورہ پاکستان کے موقع پر دوطرفہ تعلقات، سیاسی مسائل، معاشی تعاون، سرحدی امور اور دہشت گردی کےخلاف جنگ، افغانستان کی دوبارہ تعمیر و ترقی اورعوامی سطح پر رابطوں میں اضافے پر بھی غور کیا جائے گا-

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کا دار و مدار اعتماد اور ثقافت پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ دونوں اقوام کا جغرافیہ اور اکثر مسائل بھی مشترکہ ہیں۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نےگذشتہ سال نومبر میں دورہ کابل کے موقع پر افغانستان کی دوبارہ تعمیر و ترقی کے لیے مختص کردہ 35 کروڑ ڈالر کی رقم کو بڑھا کر50 کروڑ ڈالر کر دیا تھا۔

تاہم پاکستان کو اشرف غنی کے دورے سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، کیونکہ ماضی میں سابق صدر حامد کرزئی کے ساتھ پاکستان کی موجودہ قیادت کے تعلقات کچھ زیادہ اچھے نہیں رہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment