ھفتہ, 27 فروری 2021


پرائمری تعلیم کےبعدمخلوط تعلیم پرپابندی عائد،اسلامی نظریاتی کونسل

  • ایمزٹی وی(اسلام آباد) اسلامی نظریاتی کونسل نے مجوزہ ماڈل تحفظ حقوق نسواں بل تیار کرلیا جس میں کہا گیا ہے کہ شوہر عورت پر ہلکا تشدد کرسکے گا، پرائمری کے بعد مخلوط تعلیم پر پابندی ہوگی۔ جہیز کے مطالبہ اور نمائش پر پابندی ہوگی بیک وقت تین طلاقیں دینا قابل تعزیرہوگا۔ مجوزہ بل میں کہا گیا ہے عورت کو شریعت کے فراہم کردہ تمام حقو ق حاصل ہونگے۔ عورت کے زبردستی تبدیلی مذہب کرانے پر تین سال سزا ہوگی۔ اسلام یا کوئی اورمذہب چھوڑنے پر عورت قتل نہیں کی جائے گی، معاشرتی بگاڑ سے متعلق اشتہارات میں عورت کے کام کرنے پرپابندی ہوگی، تیزاب گردی یا کسی حادثے سے عورت کی موت کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔ تادیب سے تجاوزپر عورت شوہر کے خلاف کاروائی کیلئے عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔ عورتوں کو سیاسی عمل میں حصہ لینے وصیت کرنے اور جج بننے کا حق حاصل ہوگا۔ عاقلہ، بالغہ لڑکی ازخود نکاح کرسکے گی۔نان نفقہ نہ دینے کی صورت میں عورت کو خلع لینے کا حق حاصل ہوگا۔ مجوزہ بل اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مفتی امداد اللہ نے تیارکیا ہے مجوزہ بل پر آج اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس پر غور ہوگا، جس کے بعد کونسل کے چیئرمین حتمی سفارشات سامنے لائینگے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ماڈل بل بناکر سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو بھجوائے گی.

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment