منگل, 24 نومبر 2020


سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے فیصلے کو روک دیا

ایمزٹی وی(اسلام آباد) عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت کے سزا یافتہ افراد كی درخواستوں پر سماعت کل تك ملتوی كرتے ہوئے 5 ملزمان كی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ كرلیا جب كہ 5 كی سزائے موت پر عمل درآمد روكتے ہوئے كیسز كا ریكارڈ طلب كرلیا ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی كی سربراہی میں 5 ركنی لارجر بینچ نے سزائے موت كے ملزمان حیدر علی، ظاہر گل، عتیق الرحمٰن، تاج محمد عرف رضوان اور فیض زمان خان كی اپیلوں كی سماعت مكمل ہونے پر فیصلہ محفوظ كرلیا جب كہ قاری زبیر،ج میل الرحمٰن، اسلم خان،ن اصر خان اور تاج گل كی ٹرائل كا ریكارڈ طلب كرتے ہوئے ان كی سزاؤں پر عمل درآمد روك دیا۔ عدالت نے ان پانچوں ملزمان كے مقدمات میں اٹارنی جنرل افس كو نوٹس جاری كركے جواب طلب كیا اور سماعت آئندہ پیر تك ملتوی كردی جب كہ ملزمان جاوید غوری، الف خان اور دیگر كے مقدمات پر کل صبح سماعت ہوگی۔ اس حوالے سے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر صرف اعتراضات كو دیكھا جائے تو پھر ہر چیز متنازعہ ہوجائے گی یہ بھی اعتراض كیا جاسكتا ہے كہ ایف آئی آر درج نہیں ہوئی جب كہ حقیقت یہ ہے كہ ملٹری كورٹس میں مقدمات كے اندراج اور ٹرائل كا طریقہ كار عام فوجداری مقدمات سے مخلتف ہے، اگر سرحدی علاقے میں فوج كا دہشت گردوں سے تصادم ہو جس كے نتیجے میں كچھ دہشت گرد گرفتار ہوجائیں تو ان كے خلاف غیر جانبدار عینی گواہ پیش نہیں كیے جاسكتے بلكہ فوج كے وہی اہلكاران كے خلاف گواہ ہوں گے جن كے ساتھ ان كا تصادم ہوا اور جنہوں نے ان كو گرفتار كیا۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment