منگل, 11 دسمبر 2018


ننھی اسما کےقاتل کا اعترافِ جرم

 

ایمزٹی وی(پشاور)مردان میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی ننھی اسما کا کم عمر سفاک قاتل گرفتار ہوگیا جس نے اپنے گھناؤنے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔
پشاورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس صلاح الدین محسود نے بتایا کہ اسما قتل کیس میں ملزم محمد نبی نے اعتراف جرم کرلیا جس کی عمر 15 سال ہے۔ مردان کی 4 سالہ ننھی اسما قتل کیس کو 25 روزمیں حل کیا۔
ملزم محمد نبی اسما کا پڑوسی ہے جب کہ اس کا دوسرا ساتھی عبد القادر بھی حراست میں لے لیا گیا جو بچی کا پڑوسی اور رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔ بچی پر جنسی تشدد کرنے کی کوشش کی گئی تاہم بچی نے مزاحمت کی اور مدد کے لیے چیخ و پکار کی تو ملزمان نے اسے گلا دبا کرقتل کردیا۔ پولیس بچی کی گردن پر لگے خون اور ڈی این اے کی مدد سے ملزم تک پہنچے میں کامیاب ہوئی۔
آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ پولیس اس ایک صوبے کی نہیں بلکہ پورے ملک کی پولیس ہے جو دہشت گردی کے خلاف بھی فرنٹ لائن پر ہے۔ کوہاٹ کی عاصمہ رانی قتل کیس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے اہلخانہ نے ہم پراعتماد کیا اور عاصمہ کے کیس میں بھی 2 ملزمان گرفتار ہیں جب کہ آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ مردان کے نواحی علاقے گوجر گڑھی سے بچی اسما گھر سے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوگئی تھی بعد میں اس کی لاش گھرکے قریب واقع گنے کے کھیتوں سے ملی تھی اور ابتدائی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ بچی کے جسم کے حساس اعضا پر تشدد کیا گیا، بچی کے جسم سے حاصل کیے گئے دو نمونے پنجاب کی فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے تھے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment