منگل, 20 نومبر 2018


بلور خاندان کے ایک اور چراغ بجھ گیا

 

ایمزٹی وی(پشاور)پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران خودکش دھماکا ہوا ہے جس میں اے این پی کے مرحوم رہنما بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید ہوگئے۔
میڈیا زرائع کے مطابق دھماکا پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ کے دوران ہوا۔ دھماکے میں 13 افراد شہید ہوگئے جن میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرحوم رہنما بشیر بلور کے بیٹے اور اے این پی کے ’پی کے 78‘ کے انتخابی امیدوار ہارون بلور بھی شامل ہیں۔ تاہم اب شہید ہونےوالے افراد کی تعداد بڑھ کر 20 ہوگئی ہے جب کہ 62 افراد زخمی ہیں۔
دھماکے کے بعد پولیس اور امدادی ادارے جائے وقوع پہنچ گئے، تمام لاشوں اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں لائی جاچکی ہیں جب کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہارون بلور تقریب کے مہمان خصوصی تھے ان کے پہنچنے پر حملہ آور نے ان کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ دھماکے کے بعد اے این پی کے کارکنان بڑی تعداد میں جائے وقوع اور اسپتال پہنچ گئے۔
اطلاعات آئی تھیں کہ ہارون بلور کے ساتھ ان کے بیٹے دانیال بلور بھی موجود تھے اور وہ بھی زخمی ہوگئے ہیں تاہم اسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دھماکے میں کم از کم 8 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
یاد رہے کہ جائے وقوع سے کچھ ہی فاصلے پر 22 دسمبر 2012ء میں اے این پی کے رہنما بشیر بلور پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں بشیر بلور سمیت 9 افراد شہید ہوگئے تھے بشیر بلور کو بھی لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے اس وقت ہارون بلور بھی وہاں موجود تھے جو دھماکے میں زخمی ہوگئے تھے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment