جمعہ, 16 نومبر 2018


آشیانہ ہاؤسنگ کرپشن کیس، شہباز شریف کی عدالت میں پیشی

نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ کرپشن کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کردیا۔

نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو احتساب عدالت لاہورمیں پیش کردیا۔ عدالت میں کیس کی سماعت جاری ہے اور فریقین دلائل دے رہے ہیں جبکہ نیب نے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے سیکڑوں کارکن عدالت پہنچ گئے اور اپنے قائد کی گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ سیاسی کارکن پولیس کی بکتر بند گاڑی پر چڑھ گئے اور ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ن لیگ کا ایک کارکن زخمی ہوگیا۔ لیگی کارکنوں کی جانب سے نیب اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ پولیس کے تشدد کے باعث صورت حال کشیدہ ہوگئی۔ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ اور سلمان بھی احتساب عدالت میں موجود رہے۔

شہباز شریف کی نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ لوئر مال روڈ کا ایک حصہ ٹریفک کے لئے بند کیا گیا۔ رینجرزکے دستے بھی کسی ناخوشگوارواقعہ سے نمٹنے کے لئے گشت پرمامورہیں۔

گزشتہ روز نیب نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی باضابطہ گرفتاری کے لیے اسپیکرقومی اسمبلی سے رابطہ کیا اوراس کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔

نیب نے شہبازشریف کی گرفتاری پر کہا ہے کہ ملزم شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے میرٹ پرٹھیکا لینے والی کمپنی کا ٹھیکا منسوخ کرا کے اپنی من پسند کمپنی کو ٹھیکا دلوایا۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہبازشریف کی گرفتاری خوش آئند اقدام ہے، یہ پہلی گرفتاری ہے اور مزید گرفتاریاں ہونی ہیں۔ پاکستان کو لوٹنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے، حکومت نیب کو ہروقت ہرطرح کی مدد اور تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھاکہ حکومت اپنی نااہلی کا ملبہ شہباز شریف پر نہ ڈالے، سب جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت اس بدترین انتقام کی ذمہ دار ہے، آج جو سلوک وہ مخالفین کے ساتھ  روا رکھیں گے کل اس کے لیے انہیں تیار رہنا چاہیے اور یہی نظام قدرت ہے۔

 
 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment