منگل, 11 دسمبر 2018


ہمارے ارکان اسمبلی نے اپنے ضمیر کا سودا کیا، فاروق ستار

 

کراچی : ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں کارکنوں کوجو توقع تھی وہ نتائج نہ دے سکے، چودہ ارکان اسمبلی نے اپنے ضمیر کا سودا کیا، ایک سیٹ کی فتح کاجشن مناناافسوس کی بات اور بے حسی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی آئی بی کالونی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ پانچ خواتین رکن اسمبلی اور سلیم بندھانی نے صبح ہی کہیں اور ووٹ بھگتا دیا تھا، کامران ٹیسوری کو ووٹ دینے والوں نے بھی دھوکا دیا۔ تین ارکان نے ووٹ مسترد کرایا اور پانچ نے بھی کسی اور کو ووٹ ڈال دیا۔ 6ایم پی ایزکا ہمیں پتہ ہے، باقی کیلئے بہادرآباد والےساتھ دیں، جن کے بارےمیں پتہ ہے ان کےخلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کریں، سلیم بندھانی اور5بہنوں کےخلاف کارروائی کاآغازکیاجائے۔ انہوں نے کاہ کہ کس نے کتنے پیسے دیئےاور کس نے لئے، اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے، پروپیگنڈے میں پارٹی سربراہ، تنظیمی بحران کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے، ایم کیوایم کے12اراکین کی وفاداری تبدیل کرائی گئی، پہلی بارسندھ کو بلوچستان کی طرح ہارس ٹریڈنگ کا حب بنایا گیا۔ فاروق ستار نے سوال کیا کہ جن جماعتوں کا مینڈیٹ چھینا گیا کیا وہ خاموش رہیں گی؟ کیا سینیٹ الیکشن کےایسے نتائج کومان لیاجائے؟ دھاندلی زدہ الیکشن کوکالعدم قراردینے کیلئےالیکشن کمیشن کردار ادا نہیں کریگا؟ کیا ارباب اختیار اور الیکشن کمیشن کوئی ایکشن نہیں لیں گے؟ کیا چیف جسٹس بھی وفاداری تبدیل کرانےکا نوٹس نہیں لیں گے؟ بہادر آباد والوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہادرآباد والوں نےایک سیٹ کی کامیابی پرجشن منایا، جشن منانا افسوس کی بات ہے، یہ بےحسی ہے، شرم، رونے اور مرنےکا مقام ہے۔ کیا یہ میری کوتاہی ہے کہ ہمارےایم پی ایز پرندوں کی طرح پھڑپھڑاتے ہوئے اڑگئے، خریدنے والا منہ بولے دام اور بکنےوالا دھڑلے سےخود کو بیچ رہاہے، وفاداری تبدیل کرنے یاخود کو بیچنےکی ایسی تعلیم دی جارہی ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ بکنےوالوں کے گھروں کے شہداء کا الزام راؤانوار جیسےافسران پر ہے، ایسا غصہ نکالا گیا کہ مہاجروں کے شہداء کا ہی سودا کرلیا گیا، خود کو ہر قسم کے احتساب کیلئے کارکنوں کی عدالت میں پیش کرونگا۔ فاروق ستار نے کہا کہ بانی کےپاس22اگست سے پہلے کیاطریقہ تھا کوئی بکنے کاسوچتا بھی نہیں تھا، بہادر آباد والے ساتھی اتفاق کریں تو کیا وہی پالیسی یا طریقہ اختیارکریں؟

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment