پیر, 16 دسمبر 2019


کراچی میں چند بوندیں پڑتے ہی بجلی گل ہوگئی

کراچی میں چند بوندیں پڑتے ہی کے الیکٹرک کا نظام جواب دہ گیا اور شہر کا نصف سے زائد حصہ بجلی سے محروم ہوگیا۔

گزشتہ روز کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش شروع ہوتے ہی کے الیکٹرک کے شہر کو بجلی کی سپلائی کا نظام بہتر بنانے کے دعوے بھی پانی ہوگئے اور رات کو ہی شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

ہلکی بارش کے بعد 10 گھنٹے تک معطل ہونے والی بجلی کئی علاقوں میں بحال کردی گئی ہے لیکن اب بھی بعض علاقے بجلی کی فراہمی سے محروم ہیں۔

کورنگی 5 نمبر، فیڈرل بی ایریا، عزیزآباد، گلشن اقبال، ملیر، ماڈل کالونی، گلستان جوہر بلاک 8، نارتھ ناظم آباد، کھارادر، میٹھادر، ڈیفنس منظور کالونی میں بجلی بجال کردی گئی ہے۔

جب کہ لیاقت آباد سی ون ایریا، فیڈرل بی ایریا، پاک کالونی، گارڈن، ناظم آباد 1 نمبر، مچھر کالونی، بلدیہ ٹاون، اورنگی ٹاون، مواچھ گوٹھ، کھارادر، لیاری اور اولڈ سٹی ایریا میں بجلی تاحال معطل ہے۔

بجلی کا نظام بیٹھتے ہی کے الیکٹرک ہیلپ لائن پر بھی ریکارڈنگ لگادی گئی جس کے باعث شہری شکایت درج کروانے سے محروم ہیں جب کہ فیس بک سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہورہا۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بارش اور ہوا میں نمی زیادہ ہونے کے باعث بجلی کی فراہمی بند ہوئی ہے جب کہ حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ جگہوں پر بجلی عارضی طور پر بند کی گئی ہے، متاثرہ علاقوں میں کے الیکٹرک کی ٹیمیں مقامی فالٹس کی درستگی کے لیے کوشاں ہے۔

ادھر حیدرآباد شہر اور گردونواح میں بھی موسلادھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا اور کئی علاقوں میں 12 گھنٹے سے بجلی غائب ہے۔

بارش کے باعث بدین، مٹیاری، ہالہ، ٹنڈوالہیار، مٹھی میں بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔

موسم کی صورتحال

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 23 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر قائد میں ہوا میں نمی کا تناسب 74 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کا طاقتور سسٹم کل شام ملک کے بالائی علاقوں سے ٹکرائے گا۔

علاوہ ازین محکمہ موسمیات نے 25 سے 27 جولائی کے درمیان بڑے دریاؤں میں کہیں اونچے اور کہیں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے جب کہ خدشہ ہے کہ برساتی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment