منگل, 22 اکتوبر 2019


اسٹریٹ کرائمزکی 60 فیصد وارداتوں میں منشیات کے عادی افراد ملوث ہیں

کراچی: ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائمزکی 60 فیصد وارداتوں میں منشیات کے عادی افراد ملوث ہیں۔
 
ایڈیشنل آئی جی نے اعتراف کیا کہ گزشتہ20 روزکے دوران شہرمیں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے اس کی بنیادی وجہ پولیس کا محرم الحرام اور پاک سری لنکا میچوں کی سیکیورٹی میں مصروف ہونا ہے۔
 
میؑڈیا سے گفتگو میں ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ حالیہ کچھ ماہ اورگزشتہ چند سال کے جرائم کی شح کا موازنہ کیا جائے تواس میں کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آئے گا، البتہ گزشتہ 20 دن کے دوران شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بڑھی ہیں اس دوران بدقسمتی سے میڈیکل کی طالبہ مصباح اطہرکا دوران ڈکیتی قتل بھی شامل ہے۔
پولیس نے اسٹریٹ کرمنلز سے نمٹنے کے لیے حکمت علمی ترتیب دی ہے پولیس کا ہدف اسٹریٹ کرائمز کی واداتوں میں ملوث ملزمان کو گرفتارکرکے انھیں سزائیں دلوانا ہے اس سلسلے میں پولیس کے شعبہ تفتیش کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ گرفتار ملزمان کے خلاف موثر تفتیش ہوسکے، شہر میں60 فیصد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں نشئی ملوث ہیں، منشیات کے عادی نشئی اپنے نشے کے لیے وارداتیں کرتے ہیں ، اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے سی پی ایل سی ، محکمہ سماجی بہبود اور حکومت سندھ سے بات کی جارہی ہے۔
 
میمن گوٹھ میں قائم ایک سینٹر کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس وقت خالی ہے اور وہاں کسی قسم کی کوئی سر گرمی نہیں ہورہی ہے یہ سینٹر سی سی ایل سی کے سپرد کرنے کے لیے محکمہ صحت سندھ کو باضابطہ خط لکھ دیا گیا ہے، اگر سینٹر مل گیا تووہاں پولیس کے تعاون سے منشیات کے عادی افراد کا علاج کیا جاسکے گا.
 
منشیات کے عادی افراد کا علاج کرکے انھیں کارآمد شہری بنانا کر اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں پر قابو پایا جاسکتا ہے، حکومت سندھ سے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے شہر میں مزید سینٹر بنانے کی سفارش کی جائے گی ، گلشن اقبال میں میڈیکل کی طالبہ مصباح اطہرکو قتل کرنے کے کیس میں پولیس تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment