منگل, 25 فروری 2020


سندھ میں آٹےکی بحران کی وجہ سامنےآگئی

کراچی: سندھ میں تیار ہونے والا آٹا بلوچستان کے راستے مبینہ طور پر افغانستان اسمگلنگ ہورہا ہے جس کے باعث صوبے میں گندم اور آٹا کا بحران شروع ہوا۔
 
ہفتے کو اوپن مارکیٹ میں فی 100 کلو گرام گندم کی قیمت مزید 8 تا 10 روپے کے اضافے سے 6200 تا 6500 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، ذخیرہ اندوزوں نے گندم کے ذخائر چھپا دیئے اور تھوک بیوپاریوں نے گندم کی فروخت نئے خریداروں کے بجائے صرف اپنے پرانے اور جان پہچان کے حامل مستقل خریداروں تک محدود کردی۔ اس طرح گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گرام گندم کی قیمت میں مجموعی طور پر1500 تا 1700 روپے کا اضافہ ہوا۔
 
جوڑیا بازار میں آٹے کے ایک بڑے ڈیلر ایچ ایم ندیم اسلام نےمیڈیا کو بتایا کہ کراچی سے یومیہ آٹا کے 100 تا 150 ٹرک بلوچستان کے راستے افغانستان اسمگل ہورہے ہیں جس پر آٹے کے تیار کنندگان کو فی بوری 200 روپے زائد کا منافع ہوتا ہے لیکن اس اسمگلنگ کی وجہ سے سندھ میں بحران جاری ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزوں نے کراچی اور اندرون سندھ کے خفیہ گوداموں میں گندم کے وسیع ذخائر چھپائے ہوئے ہیں جس کی نشاندہی کے لیے حکومت کو انعام کے ساتھ اسکیم کا اعلان کیا جائے تو یہ خفیہ ذخائر منظر عام پر آسکتے ہیں۔
 
انہوں نے بتایا کہ فلور ملز مالکان بھی گندم کی قلت کا جواز پیش کرکے اپنے ڈیلرز کو محدود پیمانے پر 50 کلو گرام آٹے کی بوری 2850 تا 2900 روپے کے حساب سے فراہم کر رہے ہیں جو ڈیلرز10 روپے فی بوری منافع کے ساتھ فروخت کیا جاتا ہے، آٹے کی اسمگلنگ پر قابو اور گندم کے ذخائر نکلوائے جائیں تو صوبے میں آٹے کا بحران ختم ہوجائے گا۔
 
ریٹیلر نے کہا کہ جوڑیا بازار میں 50 کلو گرام آٹے کی بوری 2900 روپےتا 3000 روپے میں دستیاب ہے لہذا ایک ریٹیلر 58 تا 60 روپے فی کلو گرام آٹاتھوک میں خرید کر کس طرح کم قیمت پر فروخت کرسکے گا؟ لا محالہ ریٹیلر 10 روپے کا منافع لگا کر 68 تا 70 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کرے گا۔
 
کم قیمت پر آٹا خریدنے کی کوشش میں جوڑیا بازار آئے ایک عام شہری محمد زاہد نے کہا کہ عوام پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے بے بس ہوچکی ہے لیکن اب آٹے کی قیمت میں اضافے نے تو ہوش ہی اڑا دیئے ہیں، جوڑیا بازار میں سستا آٹا خریدنے کے لیے آئے لیکن یہاں بھی آٹا 70 روپے کلو مل رہا ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment