جمعرات, 02 اپریل 2020


امریکی سویابین کو زہریلی گیس کے پھیلاؤ کا سبب بننے کا امکان مستردکردیا

کراچی: محکمہ قرنطینہ نے امریکی سویابین کو زہریلی گیس کے پھیلاؤ کا سبب بننے کا امکان مسترد کردیا۔
ڈائریکٹر جنرل پلانٹ پروٹیکشن فلک ناز کاکہناتھا کہ سویابین میں کسی قسم کے حشرات یا مضر گیس کے اثرات نہیں ملے، قرنطینہ عملے نے 15 فروری کوہرکولیس جہاز پر جاکر امریکا سے درآمدی سویا بین کا تجزیہ کیا اور قرنطینہ جانچ کی جس کےبعد انکشاف ہواکہ نمونوں میں کسی قسم کے زرعی حشرات نہیں پائے گئے۔

فلک ناز نے بتایا کہ سویابین کی کھیپ کو امریکا سے روانگی سے قبل فاسفین کی گولیوں سے ٹریٹ کیا گیا تھا اور کراچی کی بندرگاہ پہنچنے کے بعد فاسفین کے اثرات ختم ہوچکے تھے، اس لیے کراچی کی بندرگاہ پر آف لوڈنگ سے قبل اس پر کیڑے مار ادویات کا اسپرے نہیں کیا گیا کیونکہ کراچی بندرگاہ پہنچنے پر اگر زرعی مصنوعات حشرات سے پاک ہوں تو کیڑے مار ادویات کا اسپرے نہیں کیا جاتا۔

علاوہ ازیں کراچی کے ضیاء الدین اسپتال کیماڑی میں کل رات 8 سے آج صبح 8 بجے تک گیس سے متاثرہ 82 افراد لائے گئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا، متاثرہ افراد میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں تھی۔ ترجمان اسپتال کے مطابق متاثرہ افراد جیکسن، ڈاکس، ریلوے کالونی، مجید کالونی، شیریں جناح کالونی، سکندر آباد اور دیگر علاقوں کے رہائشی ہیں۔
ادھر کراچی پورٹ پر درآمدی سویا بین کی آف لوڈنگ روک دی گئی ہے تاہم سویا بین کا جہاز ہرکولیس بدستور کراچی بندرگاہ پر موجود ہے اور احکامات کے باوجود بندرگاہ سے نہیں ہٹایا گیا ہے۔

حکومت نے ہرکولیس جہاز کو پورٹ قاسم پر لنگر انداز کرنے اور اس پر لدی باقی ماندہ سویا بین وہیں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثنا کیماڑی میں زہریلی گیس پھیلنے کے خطرات کے پیشِ نظر خوف و ہراس کے باعث کیماڑی سمیت شہر کے متعدد اسکول اور کالجز آج بند رہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment