جمعرات, 28 مئی 2020


لاک ڈاؤن کا فیصلہ درست وقت پر کیا مگر منصوبہ بندی نہیں کی.’ماہی گیر

 
 
کراچی: فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی کے چیئرمین عبدالبر نے کہا ہے کہ سندھ میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، ماہی گیروں کے لیے سمندر سے اچھا قرنطینہ کوئی اور نہیں ہے لہذا حکومت شکار کی اجازت دے۔
 
کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ درست وقت پر کیا مگر منصوبہ بندی نہیں کی، اگر شہر میں سختی نہ کی جاتی تو ہم اُن حالات کا سامنا کررہے ہوتے جن سے دنیا دوچار ہے۔
 
اُن کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کراچی ہاربرکےحوالےسے بتایا گیا تھا کہ یہ کھلا رہے گا، ہم محدود وسائل میں کام کو جاری رکھنے کے لیے کوشاں ہیں مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ دفتر نہیں آرہے۔
 
چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہم سماجی دوری اور دیگراحتیاطی تدابیر پر عمل کر رہے ہیں،سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو ابتدائی دنوں کی ہے کیونکہ اُن دنوں کراچی ہاربر کے علاوہ ساحلی پٹی پرپابندی تھی مگر کام جاری تھا۔
 
انہوں نے بتایا کہ ’ماہی گیروں کامطالبہ ہے راشن نہیں دیا جارہا تو شکارکی اجازت دی جائے، ہمارے چینل پر جگہ نہیں ہے کہ شکار کر کے واپس آنے والےاپنامال اتار سکیں،ماہی گیروں کا کام بند ہے تو بستیوں میں رش نظر آرہا ہے، اُن کے لیے سمندر سے اچھا قرنطینہ کوئی اورنہیں ہو سکتا‘۔
 
عبدالبر کا کہنا تھا کہ ’حکومت موجودہ صورت حال کے پیش نظر فش ہاربر بند کردے یا پھر ماہی گیروں کوشکارکی اجازت دے، وسائل مل جائیں تو 15روز میں ساحلی پٹی کی اسکریننگ کرسکتے ہیں‘۔
 
انہوں نے بتایا کہ ‘اس وقت صوبے میں یومیہ اسکریننگ کی مجموعی استعداد2 ہزار ہے،پول ٹیسٹ کے ذریعے یہ استعداد 20ہزار ہو سکتی ہے، پولیو ڈراپس کےطریقہ کارپراسکریننگ کی جائے تو کام زیادہ اچھا ہوگا‘۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سندھ حکومت کے پاس وسائل ہیں مگر کام کرنے اور اچھےمشورے دینے والا کوئی موجود نہیں ہے‘۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment