ھفتہ, 06 مارچ 2021


محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کےاحکامات پرتعلیمی کلینڈر2021/ 2022تیار

کراچی:تعلیمی سیشن 2021تا 2022 کے تعلیمی کلینڈر کو محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی “سب کمیٹی” نےحتمی شکل دے دی ہے جسکی منظوری کےلئے 30 جنوری کوہونے والی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا
تفصیلات کے مطابق سیکریٹری اسکول ایجوکیشن احمد بخش ناریجو کی زیر صدارت سب کمیٹی کا اجلاس منعقدہوا۔

جس میں سندھ بھر میں میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات اب دو ماہ کی تاخیر سے جولائی سے شروع کرنے کی سفارش پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا طلبہ کو پڑھنے کے لیے مزید وقت دیا جائے اور میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات جولائی 2021 سے شروع کیے جائیں جبکہ اسی دوران میں پورے صوبے کے نجی اور سرکاری اسکولوں کے پہلی سے آٹھویں جماعتوں کے طلبہ کی موسم گرما کی تعطیلات بھی جولائی میں محض ایک ماہ کے لیے دی جائیں گی

وزیرتعلیم سندھ سعیدغنی زیرِصدارت اسٹیرنگ کمیٹی کااجلاس

میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے سلسلے میں مزید یہ بھی سفارش کی گئی کہ امتحانات کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 2 گھنٹے پر محیط رکھا جائے پریکٹیکل امتحانات نہ لیے جائیں جبکہ تھیوری امتحانات میں ہی پریکٹیکل کے مارکس شامل کیے جائیں اور تھیوری امتحانات میں 50 فیصد حصہ ایم سی کیوز جبکہ باقی 50 فیصد حصہ سی آر کیوز(کنسٹرکٹڈ ریسپانس) پر مشتمل ہو۔واضح رہے اس سے قبل میٹرک کے امتحانات عید الفطر کے بعد مئی اور انٹر کے امتحانات جون سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ نیا تعلیمی سیشن 2021/22 2 اگست سے شروع کردیا جائے جبکہ میٹرک کے نتائج کے بعد کالجوں میں داخلوں کاآغاز اکتوبر سے جبکہ نئے تعلیمی سیشن سے اسکول 6 روز کے لیےکھولے جائیں گے جو آئندہ سیشن میں بھی جاری رہیں۔

اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ رواں سال 2021 میں موسم سرما کی تعطیلات صرف 8 روز 25 دسمبر سے یکم جنوری 2022 تک کی جائیں اور 2 جنوری 2022 سے اسکولوں کا دوبارہ آغاز کردیا جائے۔
اجلاس میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کے علاوہ آئی بی سی سی کے چیئرمین شہزاد جیوا، چیئرمین میراث بورڈ برکات حیدری، چیئرمین حیدرآباد بورڈ ڈاکٹر محمد میمن، آغاخان بورڈ اور کیمبرج بورڈ کے اسکولوں کے نمائندے جمیل یوسف اور ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ ڈاکٹر منسوب صدیقی کے علاوہ دیگر بھی شریک ہوئے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment