منگل, 02 مارچ 2021


سندھ بھرکی جامعات میں دوسالہ تمام ڈگری پروگرامزکوجاری رکھنےکااعلان

کراچی:سندھ کی جامعات و بورڈز کے مشیر نثار احمد کھوڑو نےصوبے میں دو سالہ تمام ڈگری پروگرامز کو جاری رکھنے کا اعلان کردیا ۔

سندھ کی جامعات و بورڈز کے مشیر نثار احمد کھوڑو نے وفاقی ہیک کی جانب سے دو سالہ گریجوئیشن ڈگری پروگرام کو ختم کرکے چار سال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے ہیک کے اس عمل کو صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دے کر صوبے میں دو سالہ تمام ڈگری پروگرامز کو جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔

جامعات و بورڈزسندھ کے مشیر نثار احمد کھوڑو نےگزشتہ روزسندھ اسمبلی کی کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےکہا کے ہم وفاقی ہیک کی ان تمام پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیںاور سندھ کی تمام جامعات صوبے کے یونیورسٹی ایکٹ کے تحت صوبائی خودمختاری کو استعمال کرکے تمام دو سالہ ڈگری پروگرامز جاری رکھینگے۔اس حوالےسے تفصیلات بتاتےہوئےانکاکہناتھاکہ صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے آئین میں تاریخ ساز 18ویں ترمیم روز اول سے مرکزیت پسند عناصر کو کَھل رہی ہےاس لئے صوبائی ہیک کے باجود وفاقی ھایر ایجوکیشن کمیشن کا قیام بھی صوبائی خودمختاری کے خلاف ہے۔

اس خبر کوبھی پڑھیں: ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کے وفاقی ہیک کی طرف سے ناقص پالیسیوں کے اجرا سے ایک طرف صوبائی خود مختاری پامال ہو رہی ہے دوسری طرف جامعات کی خود مختاری بھی متاثر ہو رہی ہے۔ نثار کھوڑو نے کہا کے 18ویں ترمیم کے ذریعے کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد وفاق کے پاس صرف چار محکمے ہونے چاہئیں باقی وہ محکمے صوبوں کو منتقل تو نہیں کئے گئے مگر وفاق اپنی اجاراداری برقرار رکھنے کے لئے صوبوں کی تعلیم میں بھی بے جا مداخلت کر رہا ہے اور وفاقی ہیک قائم کرکے صوبوں کی جامعات کو کنٹرول کرنے کی سازش ہے کبھی پی ایم سی نام پر طلبہ و طالبات کے حقوق پر ڈاکہ ڈالہ جا رہا ہے تو کبھی ہیک کی سخت پالیسیاں بنا کر صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا سندھ صوبائی خودمختاری پر کسی قسم کی مصلحت نہیں کرے گی اور وفاق کی ایسی کسی ڈکٹیشن کو بھی قبول نہیں کرینگے۔ نثار کھوڑو نے کہا کے تعلیم کا شعبہ 18ویں ترمیم کے بعد اب صوبائی اختیار میں آتا ہے جسکی بنیاد پہ سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں آیا اور سندھ اسمبلی نے سندھ یونیورسٹیز ایکٹ پاس کیا۔ جس نے جامعات کو خود مختاری دی۔

انہوں نے کہا کے وفاقی ہیک کے حالیہ اقدامات سے جن میں ہیک کی ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام اور Ph.D پالیسی سے بہت بڑے پیمانے پر مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو اعلیٰ تعلیم سے محروم ہوجائینگے اور ہیک کی اس پالیسی سے بے اے،بی کام اور دو سالہ گریجوئیشن اور ماسٹرز پروگرام اور پرائیوٹ گریجوئشن کے دروازے طالب علموں کے لئے بند ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کے وفاقی ہیک کو اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیں گےکہ وہ سندھ کے تعلیمی اداروں کی جاری کردہ اسنادکی تصدیق کریں کیوں کےتصدیق صرف وہی ادارہ کرسکتا ہے جو ڈگری جاری کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکے سندھ حکومت اس مسئلہ کو مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) میں بھی اٹھائے گی اور ہم یہ واضع کر دینا چاہتے ہیں کہ سندھ 18ویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کے وفاق ون یونٹ طرز پر عمل کرکےصوبے کی خودمختاری کو صلب کرنا چاھتا ہے مگر کسی کو صوبائی خودمختاری پر حملہ آور نہیں ہونے دینگے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کے وزیر اعظم نے نیشنل کریکیولیم لانے کی بات ہوا میں کی ہے جس کا گراؤنڈ پر کچھ نہیں ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment