اتوار, 11 اپریل 2021


100 فیصد طلباکواسکول نہیں بلاسکتے، وزیرتعلیم سندھ

کراچی: وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے 100 فیصد طلبا کوتعلیمی ادارے بلانے کافیصلہ مسترد کردیا۔

اس حوالے سےگزشتہ روز وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ صوبہ سندھ میں کوووڈ کے خاتمہ تک ایس او پیز کے تحت تعلیمی ادارے 50 فیصد ہی بچوں کو بلانے پر پابند ہوں گے۔ جو حالات اس وقت ہمارے تعلیمی اداروں بالخصوص نجی تعلیمی اداروں میں ہے اس میں یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ 100فیصد بچوں کو ایک ساتھ بلایا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ سندھ میں محکمہ تعلیم کی اسٹرنگ کمیٹی کے آخری اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ صوبے بھر میں تعلیمی ادارے مکمل ایس او پیز کے ساتھ کھولیں جائیں گے اور یہاں کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ تعلمی ادارے 50 فیصد بچوں کو بلائیں گے اور جن اسکولوں میں اگر ایکسٹرا کلاس رومز ہیں تو وہ کلاس کو دو حصوں میں تقسیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل وفاقی وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے 100 فیصد بچوں کو بلا سکتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ جاری کردہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد بھی کرایا جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمیں وفاقی وزیر تعلیم کی یہ بات سمجھ سے بالاتر لگ رہی ہے کہ ایک جانب وہ 100 فیصد بچوں کو بلانے کی بات کررہے ہیں تو دوسری جانب ایس او پیز کی بات بھی کررہے ہیں تو کسی طرح فاصلے کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں محکمہ تعلیم کے تحت تعلیمی ادارے سابقہ اعلان کے مطابق ہی اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور 50 فیصد بچوں کو ہی بلا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ الحمد اللہ صوبے میں کرونا کے کیسز میں کمی ضرور آئی ہے لیکن کرونا مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے اور جب تک یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا تعلیمی ادارے جاری ایس او پیز اور 50 فیصد بچوں کو ایک ایک دن کے حساب سے تعلیم دینے کے پابند ہوں گے۔

اس موقع پر سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment